کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد1) - صفحہ 66
صلہ رحمی کا بہت خیال رکھتے۔ بعض لوگ بہ طور قرض روپیہ لیتے اور پھر واپس نہیں کرتے تھے۔ ایسے لوگوں کو وہ قرض معاف کر دیتے تھے۔ اپنے رشتے داروں سے بے حد محبت کا سلوک کرتے۔ روزانہ کے معمولات: نواب صاحب رحمہ اللہ کے روزانہ کے معمولات یہ تھے کہ نمازِ فجر سے پہلے جاگتے اور تہجد پڑھتے۔ نمازِ فجر کے بعد تلاوتِ قرآن اور وظائف میں مشغول ہوجاتے۔ اس سے فارغ ہو کر ایک گھنٹا وقائع نویسوں کی باتیں سنتے اور ریاست کے متعلق ضروری ہدایات دیتے۔ پھر تصنیف و تالیف میں مصروف ہوجاتے۔ دوپہر کے وقت کھانا تناول فرماتے اور کھانے کے بعد تھوڑی دیر قیلولہ کرتے۔ پھر نمازِ ظہر پڑھ کر ریاستی معاملات میں مشغول ہوجاتے۔ اس اثنا میں نمازِ عصر کا وقت ہوجاتا تو نماز پڑھ کر سیر و تفریح کے لیے تشریف لے جاتے۔ مغرب کی نماز کے بعد ضروری خبریں سنتے۔ پھر بچوں کو اور دوسرے شائقین کو تقریباً ایک گھنٹا قرآن و حدیث کا درس دیتے۔ بعض دفعہ علماے کرام بھی درس میں شرکت کرتے۔ درس کے بعد بسا اوقات شعر و شاعری کا دور بھی چلتا۔ نمازِ عشا کے بعد کھانا کھا کر سو جاتے۔ نواب صاحب رحمہ اللہ دورِ طالب علمی میں دہلی میں نواب مصطفی خاں شیفتہ کے گھر پر رہے تھے۔ اس پر وہ ان کے نہایت شکر گزار تھے۔ ۱۸۵۷ء میں انگریزوں نے نواب مصطفی شیفتہ کو گرفتار کر کے قید میں ڈال دیا تو نواب صاحب رحمہ اللہ کو بے حد ذہنی اذیت پہنچی اور بھاگ دوڑ کر کے انھیں قید سے رہائی دلائی۔ مولانا عبد الحی فرنگی محلی رحمہ اللہ سے نواب صاحب رحمہ اللہ کی علمی بحثیں جاری رہتی تھیں ۔ مولانا عبد الحی صاحب رحمہ اللہ کی وفات کا پتا چلا تو نواب صاحب رحمہ اللہ نے نہایت حزن و ملال کا اظہار فرمایا اور ان کی تعزیت کے لیے لکھنؤ کے فرنگی محل پہنچے، جہاں مولانا ممدوح سکونت پذیر تھے۔ فرمایا: آج آفتابِ علم غروب ہوگیا۔ ہمارا اور ان کا اختلاف فقط تحقیقاتِ مسائل تک محدود تھا۔ مولانا کی غائبانہ نمازِ جنازہ پڑھی۔[1] حیاتِ طیبہ کے آخری ایام اور وفات: اب نواب صاحب کی حیاتِ طیبہ کے آخری ایام اور سانحہ موت کا تذکرہ اس کے شاگرد رشید [1] ملاحظہ ہو: کتاب ’’نواب صدیق حسن خاں ‘‘ از ڈاکٹر رضیہ حامد (ص: ۱۳۱، ۱۳۲)