کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد1) - صفحہ 618
رضا سے، بخل کو جود وسخا سے، تیزیِ طبع کو نرمیِ خاطر سے اور شغل بغیر اللہ کو شغل باللہ وفی اللہ سے بدل لے، علی ہذا القیاس۔ جب یہ انقلاب آ جاتا ہے تو پھر انسان کو اللہ کے سوا کسی کی پروا نہیں رہتی۔ اسے ہی کہتے ہیں : ’’اللہ اللہ باقی سب خیر سلا‘‘۔ غالب بریدم از ہمہ خواہم کہ زیں سپس کنجے گزینم و بیرستم خداے را [غالب! میری چاہت یہ ہے کہ میں سب سے کٹ جاؤں اور اس کے بعد گوشہ نشین ہو کر ایک اللہ کی عبادت میں لگ جاؤں ] بہر حال جب کسی شخص کو ہر کام کاج میں تقوی منظور نظر اور پیش نہاد خاطر ہو گا تو رفتہ رفتہ اس کی ساری منکرات معروفات سے بدل جائیں گی، اس کی خصالِ مذمومہ صفاتِ محمودہ بن جائیں گی، اعمالِ قبیحہ اعمالِ حسنہ سے تبدیل ہو جائیں گے، مفاسد مصالح بن کر کچھ اور ہی لطف دکھائیں گے، فضائل کے ساتھ آراستگی رذائل سے پیراستگی ظاہر ہو گی اور شغل بغیر اللہ رفتہ رفتہ کم ہو کر اس کی جگہ شغل بحق تعالیٰ بیٹھ جائے گا۔ پھر اگر اللہ نے چاہا اور نصیب بھی اچھے ہوئے تو دل خیالِ خیر سے بالکل صاف ہو کر اللہ کے سوا کو بھول جائے گا، سب کو چھوڑ چھاڑ کر صرف ایک اللہ وحدہ لا شریک لہ کی طرف آ جائے گا اور ’’لا الہ الا اللہ‘‘ پر قانع ہو جائے گا۔ چاہیے الفت جاناں سے سروکار فقط منتخب عالم ہستی میں ہے اک یار فقط قید الفت میں ہیں فرہاد نہ مجنون باقی ہم رہے دام محبت میں گرفتار فقط فکر وصلت سے تو فارغ ہیں خدا خیر کرے منع الفت کے لیے ہیں مرے غم خوار فقط جب حالت یہ ہو جائے گی تو دلِ اخلاص منزل پر معرفتِ حقیقی کا دریچہ کھل جائے گا۔ اب تک جو کچھ بہ طریقِ علم معلوم ہوا تھا، وہ سب دیدہ بصیرت میں مشہود وعیاں ہونے لگے گا، جو استدلال تھا، وہ بداہت بن جائے گا، حصول ضرورت بن کر آ جائے گا، عالم اس علم کے ذریعے معلوم تک پہنچ جائے گا،