کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد1) - صفحہ 617
ہیں ۔ اس کے خاص معنی یہ ہیں کہ جو چیزیں آخرت میں ضرر رساں ہیں ، ان سے بچے، قلب واعضا کو ان سے الگ رکھے اور ان کے قریب بھی نہ پھٹکے۔
تقوی کم اور زیادہ ہوتا رہتا ہے۔ اس کا کم از کم درجہ یہ ہے کہ شرک وبدعت کی جملہ اقسام سے حتی الامکان احتراز کرے، چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
﴿فَاتَّقُوا اللّٰہَ مَا اسْتَطَعْتُمْ﴾ [التغابن: ۱۶]
[سو اللہ سے ڈرو جتنی طاقت رکھو ]
اس میں کوئی شک نہیں کہ تقوے کا یہ مرتبہ ہر شخص کی استطاعت میں داخل ہوتا ہے۔ اگر بندے سے اتنا بھی نہ بن پڑے تو پھر وہ ابد الآباد تک آگ میں رہے گا۔ جہنم اس سے آباد ہو گی اور وہ برباد ہو جائے گا۔
رہا تقوے کا اعلیٰ درجہ تو وہ یہ ہے کہ جو چیز اللہ کی طرف رجوع کرنے سے روکے، اس کے ذکر سے باز رکھے، اتباعِ سنت سے محروم کر دے، کمالِ ایمان، حسنِ اسلام اور اخلاصِ احسان کے مراتب سے مانع ہو، تقویٰ تمھیں اس سے بچائے اور اس کے قریب نہ آنے دے۔ چنانچہ مندرجہ ذیل آیت کریمہ سے تقوے کا یہی درجہ مراد ہے:
﴿اِتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ﴾[آل عمران: ۱۰۲]
[اللہ سے ڈرو، جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے]
غرض کہ تقوے کے مقام و مرتبے کا تقاضا یہ ہے کہ انسان ان چیزوں کے دیکھنے، سننے، چھونے، کھانے، پینے اور پہننے سے باز آ جائے، جن سے منع کیا گیا ہے، جس راہ پہ چلنے سے روکا گیا ہے، جو سجدہ کرنے سے منع کیا گیا ہے، اس سے رک جائے۔ اسی طرح بے ہودہ گوئی نہ کرے، شرم گاہ کو حرام اور زبان کو فضول کلام سے بچائے۔ منکرات کی آماج گاہ انسان کا دل ہے، اس کے درست ہونے سے تمام اعضا درست ہو جاتے ہیں اور اس کے بگڑنے سے سارے جوارح بگڑ جاتے ہیں ۔ یہ دل ملک جسم کا بادشاہ ہے۔ جملہ حواس اس کے لشکر اور جملہ اعضاے جسم اس کی رعیت ہیں ۔ اخلاقِ حسنہ کے ذریعے دل صالح ہو جاتاہے اور اخلاق بد سے بگڑ جاتا ہے، لہٰذا ہر قبیح امر کو اس کے مقابلے میں ثابت شدہ امر حسن سے بدل لینا لازم ہے، مثلاً کفر کو ایمان سے، نفاق کو اخلاص سے، غضب کو