کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد1) - صفحہ 616
پرہیز گاری اور ترسکاری کو اختیار کرے۔ تمام اعمال اور تمام احوال کی اساس یہی تقوی اختیار کرنا ہے۔ ڈیڑھ سو سے زائد آیات قرانیہ میں تقوے کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ ان میں سے چالیس آیات ایسی ہیں جن میں تقوی اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یاد رہے جب تک کوئی قرینہ صارفہ موجود نہ ہو، امر کا صیغہ وجوب کے لیے آتا ہے۔ چنانچہ اس مسئلے میں ایسا کوئی قرینہ نہیں ہے۔ خیروبرکت والی خصلتوں میں سے کوئی خصلت ایسی نہیں ہے جس کا تقوے سے زیادہ ذکر ہو اور اس کی تعریف کی گئی ہو۔ احادیث میں بھی اسی تقوے کا شرف ومقام سب سے زیادہ بیان فرمایا گیا ہے۔ متقی مرد وزن کو اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ بزرگ اور عزت والا ٹھہرایا گیا ہے اور اسی تقوے کو لباسِ خیر اور زادِ خیر فرمایا گیا ہے۔ یہ تقوی بھی عجیب چیز ہے، جو ثواب کے لیے شرط سبب ہے اور دشمنوں کے لیے موجبِ قہر ہے۔ تقوے سے بھر پور انداز میں بخشش، رحمت اور گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے۔ اسی سے فتح برکات اور رفع درجات کا شور ہوتا ہے، حق وباطل میں جدائی پڑ جاتی ہے، تنگی ترشی سے رہائی مل جاتی ہے، ایسی جگہ سے رزق ملنے لگتا ہے، جہاں کا کچھ دھیان گمان نہیں ہوتا ہے، عمل کا اجر بڑھتا ہے، عمل صالح ہونے لگتا ہے، زبان سے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا ہوتا ہے، نعمت کی ترقی ہوتی ہے، صبر کی ہمت بندھتی ہے۔ قرآن مجید میں اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ تم نیکی اور تقوے میں دوسرے مومنوں کی مدد کیا کرو۔ نیکی وتقوے کا حکم دینے والے کی مدح و آفرین فرمائی گئی ہے۔ اول وآخر سارے جہاں کو اسی تقوے کی وصیت کی گئی ہے۔ لہٰذا جو شخص سچا طالب اور پکا راغب ہو، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ تقوے کا عاشق اور پرہیز گاری کا دل دادہ بنے، فسق وفجور اور کذب وزور کو ممنوع قرار دے، کسی کے کہنے سننے اور بہکانے پھسلانے میں نہ آئے۔ شیطان انسان کا قوی دشمن ہے۔ کتاب وسنت کے توسل کے بغیر اس کے مکرو فریب سے چھٹکارا حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔ نفس امارہ ابلیس کا خادم ہوتا ہے۔ وہ اس نفس کو جس طرف بھی کھینچتا ہے، یہ چپ چاپ اسی طرف دوڑتا چلا جاتا ہے۔ ابلیس لعین کبھی تقوے کی صورت میں بھی دھوکا دے کر تقوے سے باز رکھتا ہے۔ تقوے کے لغوی معنی پرہیز گاری کے ہیں ۔ شرع میں اس کے خاص و عام دونوں معنی آئے