کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد1) - صفحہ 614
استقامت پذیر رہا اور اس کی تبلیغ کی تو اس کا اجر اس سے زیادہ ہو گا، جتنا اوائل اسلام و ملت میں جملہ اسلام پر عمل سے تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو پچاس کا اجر ملے گا۔ پوچھا گیا: پچاس ان میں سے؟ فرمایا: نہیں تم میں سے۔[1] اس اجر کی وجہ یہ ہے کہ فسادِ امت کے وقت سنت پر عمل کیا گیا۔‘‘[2] رب کریم سے ہماری دعا ہے کہ ہم کو ان لوگوں میں رکھے جو لوگوں کی بات سن کر اچھی بات پر عمل کرتے ہیں ۔ کتاب اور سنت پر عمل پیرا ہیں ، بدعات، اہوا اور آرا سے بچتے ہیں ۔ سنت کے مقابلے میں کسی کے قول، فعل، اجتہاد، رائے اور قیاس کو سند نہیں مانتے ہیں ۔ صلح کل کو بدعت اور ضلالت جانتے ہیں ۔ بدعات کی کوئی بھی قسم ہو، اسے ایمان کے لیے تباہی، اسلام کے لیے بربادی اور احسان کے لیے خرابی سمجھتے ہیں ۔ دین حق کو قرآن اور حدیث میں محصور جانتے ہیں اور انھیں دونوں اصول کو سعادتِ دارین کے حصول کے لیے کافی سمجھتے ہیں ۔ عمل صالح کا اہتمام کرتے ہیں اور سیئات سے جہاں تک ہو سکے بھاگتے ہیں ۔ فرو گذاشتوں اور غلطیوں سے توبہ کرتے ہیں ۔ گناہ پر جمتے نہیں ، باہم خیر خواہی اور نصیحت پسند کرتے ہیں ۔ فضیحت اور رسوا کرنے کو سخت نا پسند کرتے ہیں ۔ ان کو کوئی راہِ سنت سے بھٹکا نہیں سکتا اور کتاب و سنت کی مزاولت اور اصحابِ حدیث کی صحبت سے انھیں کوئی باز نہیں رکھ سکتا۔ کتاب اللہ اور سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قناعت کرنے سے دل کو چین، جی کو آرام، ایمان کو قوت، اسلام کو رونق اور احسان کو ترقی ملتی ہے۔ جس بد نصیب نے کتاب وسنت سے منہ پھیرا اور تیرا میرا طریقہ اختیار کیا، وہ نام کا مسلماں ہو سکتا ہے، حقیقت میں اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ اگر اسلام اس کا نام ہے کہ پیغمبر اسلام سے کوئی سروکار رہے نہ سنت سے کوئی غرض اور عمل صالح سے کوئی مطلب، بلکہ رات دن فسق وفجور اور خوض وجدال رہے اور بدعت کی تائید و تقویت کی جائے تو ایسے اسلام کو ہمارا سلام ہے۔ آج نہیں توکل اس نام کی مسلمانی کا بھانڈا پھوٹ جائے گا۔ [مجھے وہ بات کس قدر پسند آئی جو ایک عیسائی شراب خانے پر ڈفلی اور بانسری بجا کر کہہ رہا تھا]
[1] سنن أبى داؤد ،رقم الحديث(4341) [2] عقيدة السلف للصابوني(ص: 40)