کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد1) - صفحہ 613
کے طریقے پر چلنے والا ان کے اَتباع اور ان کی جماعت میں سمجھا جائے گا۔‘‘[1]
پھر امام صابونی رحمہ اللہ نے اس جماعت میں امام شافعی رحمہ اللہ کا شمار کیا ہے اور ان سے پہلے سعید بن جبیر، زہری، شعبی اور تیمی رحمہم اللہ کو بتلایا ہے۔ ان کے بعد لیث بن سعد، اوزاعی، ثوری، ابن عیینہ، حماد بن سلمہ، حماد بن زید، یونس بن عبید، ایوب، ابن عونS اور ان کے بعد ان کے ہم عصروں کا نام لیا ہے۔ ان کے بعد یزید بن ہارون، عبدالرزاق، جریر بن عبدالحمید رحمہم اللہ کا نام لیا ہے. ان کے بعد محمد بن یحییٰ ذہلی، بخاری، مسلم، ابو داود، ابو زرعہ رازی، ابو حاتم، ابن ابی حاتم، محمد بن مسلم طوسی، عثمان دارمی، ابن خزیمہ، اسحاق بستی، یحییٰ ہروی، عدی بن حمدویہ رحمہم اللہ کے اسما کی تعیین کی ہے۔
امام صابونی رحمہ اللہ پھر لکھتے ہیں کہ یہ لوگ سنتِ مطہرہ سے متمسک تھے، حدیث کی نصرت کرتے تھے، حدیث کی طرف بلاتے تھے، حدیث کی طرف راہ دکھاتے تھے، ان سب کا وہی عقیدہ تھا، جو اس کتاب میں لکھا گیا ہے۔ کسی کا اس سے اختلاف نہیں تھا۔ سب کا اس پر اتفاق تھا کہ اہلِ بدعت سے الگ رہنا چاہیے۔ اسی صورت میں اللہ کا قرب مل سکتا ہے، جب مسلمان اہلِ بدعت سے دور رہے اور ان کو چھوڑ دے۔ ان تفصیلات کو لکھنے کے بعد امام صابونی رحمہ اللہ پھر لکھتے ہیں :
’’میں بفضلِ الٰہی ان ہی کے نقوش راہ پر چلتا ہوں اور ان ہی کی انوار سے مستنیر ہوں ۔ میں اپنے احباب کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ ان کے منارۂ ہدایت سے نہ بھٹکیں ، ان کے آثار و اقوال کو چھوڑ کر دوسرے کی نہ مانیں اور مسلمانوں کے درمیان مشہور بدعت پر ستوں کی ان بدعتوں سے کوئی دلچسپی نہ رکھیں ۔ اگر ان ائمۂ ہدایت کے زمانے میں آج کی ایک بدعت بھی رائج پذیر ہوتی تو ایسے بدعتی کو وہ لوگ چھوڑ دیتے، اسے بدعتی قرار دیتے، اس کی تکذیب کرتے اور اس کو ہر طرح سے زک پہنچاتے۔ اہلِ بدعت کی کثرت اور ان کی بہتات سے وہ دھوکا نہیں کھا سکتے تھے۔ ان کی کثرت قربِ قیامت کی نشانی ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قربِ قیامت اور اس کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ علم کم ہو جائے گا اور جہالت کی کثرت ہو گی۔[2] علم سے مراد یہاں سنت اور جہالت سے مراد بدعت ہے۔ جس نے سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے تمسک کیا، اس پر عمل کیا اور
[1] عقيد ة السلف(ص: 38)
[2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (4933)