کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد1) - صفحہ 612
انھیں ناصبی کا خطاب دیا، حالانکہ اہلِ حدیث ان تمام معائب سے بری ہیں اور ان خرافات سے پاکیزہ ہیں ۔ وہ صرف اہلِ سنت مضیئہ اور پسندیدہ سیرت لوگ ہیں ۔ ان کی راہ سیدھی ہے اور ان کے پاس قوی دلائل وبراہین ہیں ۔ رب تعالیٰ نے انھیں اپنی کتاب، وحی اور خطاب کے اتباع کی توفیق دی ہے، اپنے رسول کی اقتدا کی ہدایت کی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخبار و احادیث کو راہِ عمل بنانے کی توفیق بخشی ہے۔ ان میں آپ کی امت کے لیے معروف کے قول وعمل کا حکم ہے اور نہی عن المنکر کی خبر ہے۔ رب تعالیٰ نے انھیں آپ کی سیرت کو حرز جاں بنانے اور اس سے ہدایت یاب ہونے کے لیے نصرت عطا کی ہے۔ آپ کی محبت ائمہ دین اور علماے شریعت کی محبت کے لیے ان کو شرح صدر عطا کیا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جو قوم جس سے محبت کرتی ہے، وہ اسی کے ساتھ رہتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( اَلْمَرْئُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ )) [1] [آدمی اسی کے ساتھ ہو گا جس سے اس کو محبت ہو] اہلِ سنت کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ وہ ائمہ سنت، علماے سنت، سنت کے انصار و اعوان سے محبت رکھتے ہیں اور ان ائمہ بدعت کو ناپسند کرتے ہیں ، جو جہنم کی طرف بلاتے ہیں اور اپنے ساتھیوں کو ہلاکت کے گڑھے جہنم میں گرا دیتے ہیں ۔ رب تعالیٰ نے اپنے فضل و احسان سے اہلِ سنت کے دلوں کو علماے سنت سے محبت کے سبب منور و مزین کر دیا ہے۔ قتیبہ بن سعید نے کتاب الایمان میں لکھا ہے کہ ابو عبد اللہ حاکم نے کہا ہے کہ جب تم کسی شخص کو دیکھو کہ وہ سفیان ثوری، مالک بن انس، اوزاعی، شعبہ، ابن مبارک، ابو حفص، شریک، وکیع، یحییٰ بن سعید اور عبدالرحمٰن بن مہدی سے محبت رکھتا ہے تو اسے صاحبِ سنت سمجھو۔[2] احمد بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے اس عبارت کے بعد اپنے قلم سے اتنا اور زیادہ کر دیا کہ یحییٰ بن یحییٰ، احمد بن حنبل، اسحق بن راہویہ سے بھی محبت رکھے۔ امام صابونی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ احمد بن سلمہ کے بعد میں نے اتنا اور بڑھا دیا: ’’جو ان سے محبت رکھے گا وہ اہلِ حدیث ہو گا، اس کا شمار ائمہ اہلِ سنت میں ہو گا اور ان
[1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (5817) صحیح مسلم، رقم الحدیث (2640) [2] شعار أصحاب الحديث لأبى أحمد الحاكم (1/ 33)