کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد1) - صفحہ 611
متوجہ ہوئے اور کہا: اس شخص کے علاوہ آج تک میں نے کسی سے یہ نہیں کہا کہ میرے گھر نہ آنا۔[1] امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’اہلِ بدعت کی علامت یہ ہے کہ وہ اہلِ حدیث کی بدگوئی کرتے ہیں ۔ زندیقوں کی نشانی یہ ہے کہ اہلِ حدیث کو حشویہ کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔ وہ اپنے اس طعن سے احادیث کو ملیامیٹ کرنا چاہتے ہیں ۔ قدریہ کی علامت یہ ہے کہ وہ اہلِ سنت کو جبریہ کہتے ہیں ۔ جہمیہ کی علامت یہ ہے کہ وہ اہلِ سنت کو مشبہہ کہتے ہیں اور روافض کی نشانی یہ ہے کہ وہ اہلِ سنت کو ناصبی کہتے ہیں ۔ یہ سب محض عصبیت کی وجہ سے کہتے ہیں ۔ اہلِ سنت کا صرف ایک نام ہو سکتا ہے اور وہ اصحاب الحدیث ہے۔‘‘[2] امام صابونی رحمہ اللہ نے ان اقوال کو باسند نقل کرنے کے بعد فرمایا: ’’میں سمجھتا ہوں اہلِ بدعت نے اہلِ سنت کو یہ تمام نام دے کر مشرکین کا کردار ادا کیا ہے۔ مشرکین نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہی کچھ کیا تھا۔ کسی نے آپ کو کاہن کہا تھا، کسی نے شاعر بتلایا اور کسی نے ساحر کہہ کر پکارا۔ کچھ کا خیال تھا آپ نعوذ باللہ مجنون ہیں ۔ چند لوگوں نے آپ کو جھوٹا بھی سمجھا، حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان تمام تہمتوں سے بری تھے۔ آپ صرف رسول مصطفی اور نبی مجتبیٰ تھے۔‘‘[3] رب تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اُنْظُرْ کَیْفَ ضَرَبُوْا لَکَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا﴾ [بني إسرائیل: ۴۸] [دیکھو وہ تمھارے لیے کیا مثالیں بیان کرتے ہیں ، یوں وہ گمراہ ہو گئے، وہ راہ یاب نہیں ہو سکتے] یہی حال بدعتیوں کا ہے۔ سنتِ رسول سے ہدایت یاب، سنت کے شیدائی، راویانِ حدیث، حافظینِ آثار نبویہ اور ناقلینِ فرمانِ رسالت کو انھوں نے بے شمار ناموں سے یاد کیا۔ کسی نے ان کا نام حشویہ رکھا، کسی نے انھیں جبریہ کہا، کسی نے مشبہہ سے یاد کیا، کسی نے نائیہ سے یاد کیا اور کچھ نے
[1] أحاديث في ذم الكلام و أهله لأبي الفضل المقري (2/71) [2] العلو للعلى الغفار للذهبي(1/ 190) [3] عقيدة السلف أصحاب الحديث(ص: 36)