کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد1) - صفحہ 610
کے وسوسے اور نفس پرستی سے حاصل ہو۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہمیشہ شکوک و شبہات کا شکار رہتے ہیں اور حق کو دریافت نہیں کر پاتے۔
رب تعالیٰ نے فرمایا:
﴿ اُوْلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ لَعَنَھُمْ اللّٰہُ فَاَصَمَّھُمْ وَاَعْمٰٓی اَبْصَارَھُمْ﴾[محمد: ۲۳]
[یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی پھٹکار ہے، اللہ نے انھیں برا بنا دیا ہے اور ان کی نگاہوں کو بے نور کر دیا ہے]
دوسری جگہ ارشاد فرمایا:
﴿ وَ مَنْ یُّھِنِ اللّٰہُ فَمَالَہٗ مِنْ مُّکْرِمٍ اِنَّ اللّٰہَ یَفْعَلُ مَا یَشَآئُ﴾ [الحج: ۱۸]
[جسے اللہ ذلیل کر دے تو اسے کوئی عزت نہیں دے سکتا، اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے]
احمد بن سنان قطان رحمہ اللہ کا قول ہے:
’’لیس في الدنیا مبتدع إلا و ھو یبغض أہل الحدیث، و إذا ابتدع الرجل بدعۃ نزعت حلاوۃ الحدیث من قلبہ‘‘[1]
[دنیا کا ہر بدعتی اہلِ حدیث کو نا پسند کرتا ہے، جب انسان بدعت کرنے لگتا ہے تو حدیث کی حلاوت اس کے دل سے چھن جاتی ہے]
نصربن سلام فقیہ رحمہ اللہ نے فرمایا:
’’لیس شییٔ أثقل علی أھل الإلحاد ولا أبغض إلیھم من سماع الحدیث وروایتہ بإسنادہ‘‘[2]
[اہلِ الحاد کے لیے سب سے مشکل اور ناپسند چیز حدیث کا سماع اور اسناد کے ساتھ اس کی روایت ہے]
امام حاکم رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ احمد بن اسحق رحمہ اللہ نے ایک آدمی سے اثناے مناظرہ کہا: ’’حدثنا فلان‘‘ [ہم سے فلاں نے بیان کیا] اس نے کہا: اسے چھوڑو! کہاں تک حدثنا چلے گا؟ احمد نے کہا: اے کافر! اٹھ بھاگ اور آج کے بعد میرے گھر کا رخ نہ کرنا۔ حاکم کا بیان ہے کہ پھر احمد میری طرف
[1] أحاديث في ذم الكلام و أهله لأبي الفضل المقري (2/72)
[2] أحاديث في ذم الكلام و أهله لأبي الفضل المقرى (2/73)