کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد1) - صفحہ 608
زائل نہ ہو۔ تیسرا مرتبہ یہ ہے کہ ایک منکر تو ختم ہو جائے لیکن اس کی جگہ اسی طرح کا منکر آجائے۔ چوتھا مرتبہ یہ ہے کہ ایک منکر زائل ہو اور اس کی جگہ اس سے بدتر منکر آجائے۔ چاروں مرتبوں میں دو تو مشروع ہیں ، تیسرا اجتہاد کا مقام ہے، چوتھا مرتبہ حرام ہے، مثلاً کسی کو دیکھا گیا کہ وہ شطرنج کھیلتا ہے، اگر اس کو منع کیا جائے تو شطرنج چھوڑ کر شراب پینے لگے گا، ایسی صورت میں انکار کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ ہاں اگر وہ شطرنج چھوڑ کر تیر اندازی یا گھوڑ سواری اختیار کر لے تو پھر انکار میں کچھ مضائقہ نہیں ہے۔ اسی طرح جب فساق لہو و لعب میں مبتلا یا گانے بجانے میں پھنسے ہوں اور یہ امید ہو کہ وہ اس کام کو چھوڑ کر شریعت کی اطاعت اختیار کر لیں گے تو ان پر انکار کرنا چاہیے، ورنہ ان کو ان کی حالت پر چھوڑ دینا چاہیے۔ اسی طرح اگر ایک آدمی قصے کہانی کی کتاب دیکھتا سنتا ہے، خدشہ یہ ہے کہ اگر اسے منع کیا جائے تو وہ اہلِ بدعت و ضلالت کی کتابیں دیکھنے لگے گا تو اس پر نکیر کرنا ضروری نہیں ہے، ہاں اگر کتبِ توحید و سنت سے اشتغال کرنے کی امید ہو تو اسے روکنا چاہیے۔
شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ ۔رحمہ اللہ وأدخلہ في فسیح جنانہ۔ نے فرمایا کہ ایک بار میں اپنے رفقا کے ساتھ تا تاریوں کے پاس سے گزرا تو دیکھا کہ وہ لوگ شراب پی رہے ہیں ۔ میرے رفقا نے ان پر نکیر کی تو میں نے کہا: تم یہ کیا کرتے ہو؟ شراب اس لیے حرام ہوئی ہے کہ وہ نماز اور ذکرِ الٰہی سے روکتی ہے، ان لوگوں کو شراب قتل و خونریزی، نسل انسانی کو تباہ کرنے اور مال لوٹنے سے باز رکھتی ہے۔ انھیں کچھ نہ کہو۔ اگر یہ اس وقت شراب سے باز رہیں گے تو مذکورہ کام کریں گے۔ غرض یہ کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا مسئلہ بڑا وسیع ہے۔ عالم ہوش مند اور مومن عقل مند وقت کے تقاضے کو ملحوظ رکھتے ہوئے حسنِ تدبیر سے یہ فریضہ انجام دے گا اور اگر وقت کا تقاضا خاموشی ہے تو خاموشی بہتر ہے۔
٭٭٭