کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد1) - صفحہ 604
سارے خلفاے اسلام خلافتِ نبوت کے بعد خلیفہ بن گئے تھے۔ پھر اگر کوئی ایسا آدمی ملک پر قابض ہو گیا جس میں امامت کے شروط جمع نہیں ہیں تو ایسی حالت میں بھی اس کی مخالفت درست نہیں ، کیونکہ اس کو خونریزی، فتنہ اور فساد کے بغیر ہٹایا نہیں جاسکتا اور اس کو معزول کرنے کے جو مصالح ہو سکتے ہیں ، وہ تو حاصل ہونے سے رہے، اس کے بجائے ایک عظیم فتنہ و فساد برپا ہو جاتا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے حاکموں سے متعلق سوال کیا گیا کہ کیا ہم ان کو چھوڑ نہ دیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ، جب تک وہ نماز پڑھتے رہیں اور تم ان کا کوئی صریح کفر نہ دیکھو جس کی تمھارے پاس برہان ہو،، تب تک انھیں نہیں چھوڑ سکتے۔ [1] جتنے امرا یا بادشاہ جو حاکم بن بیٹھے یا اس وقت ہیں اوران کے اندر شرائطِ امامت نہیں تھے یا نہیں ہیں ، ان سے اس بنیاد پر بغاوت نہیں کی جاتی کہ ان کو معزول کرنے میں فساد عظیم برپا ہو جائے گا۔ ان کی معزولی سے جو مقصد پیش نظر ہوتا ہے، وہ حاصل نہیں ہوتا، پھر مفت میں بکھیڑا کھڑا کرنے سے کیا فائدہ؟ وہ کیسے بھی ہوں ، آخر اپنے آپ کو مسلمان تو کہتے ہیں ، نماز تو قائم کرتے ہیں ، گو کیسی ہی ٹوٹی پھوٹی عبادت کیوں نہ ہو۔ ہاں اگر وہ بالکل نماز ترک کر دیں ، صریح کفر اختیار کر لیں اور ضروریاتِ دین کا انکار کر بیٹھیں تو پھر ان کا قتل کرنا ان سے لڑنا بھڑنا واجب ہو جاتا ہے۔ یہ قتال جہاد کا حکم رکھتا ہے، اس پر فساد کا حکم نہیں لگ سکتا، اس لیے کہ اب وہ مصلحت فوت ہو گئی جس کی خاطر ان کی امامت کو تسلیم کیا گیا اور ان کی ریاست و حکومت پر صبر کیا گیا، اس کے بجائے اب فساد عام پیدا ہو گیا۔ حدیث میں آیاہے کہ مسلمان مرد پر اس وقت تک امام کی سمع و طاعت ہر پسند و ناپسند میں واجب ہے، جب تک وہ کسی معصیت کا حکم نہیں دیتا ہے، اگر وہ کسی معصیت کا حکم دے تو اس کی سمع و طاعت ضروری نہیں ۔[2] اس وقت اس کی بات سننا اور اس کے کہنے پر چلنا ممنوع ہے۔ خلافت وامامت صحیح حدیث (( اَلْأَئِمَّۃُ مِنْ قُرَیْشٍ )) [امام قریش سے ہوں گے] پر مبنی ہے۔ ملتِ اسلامیہ کے لیے یہ قطعاً درست نہیں کہ غیر قریشی کو اپنا امام بنائے، گو وہ کیسا ہی لائق فائق کیوں نہ ہو۔ جو لوگ ایسا کرتے ہیں ، وہ سخت گنہگار، اور حکمِ الٰہی اور رسول احمد مختار کی مخالفت کرتے ہیں ، لیکن جس جگہ عامہ مسلمین کا زور نہ چلے اور کوئی ترک، مغل، پٹھان یا پارسی غلام بہ زور شمشیر
[1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۶۶۴۷) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۷۰۹) [2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۲۷۹۶) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۸۳۹)