کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد1) - صفحہ 596
میں افعال نبویہ کے پابند اور طریقہ سلف پر کار بند تھے۔ ان کی روایت کا سلسلہ آج تک صحیح متصل سند تلقی بالقبول کے ساتھ رسول مقبول صلی اللہ علیہ و سلم تک پہنچتا ہے۔ ان کا اور اہلِ رائے کے قیاس اور اجتہاد کا صرف اتصال سند ہی میں فرق نہیں ہے، بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ایک حیثیت سے یہ صحابہ کا حکم رکھتے ہیں ۔ بارگاہِ نبوت میں باریابی اور صحبتِ نبوی میں فیض یابی سے اگرچہ یہ محروم ہیں ، لیکن یہ اصحابِ انفاس مصطفوی ہیں ۔ یہ امتیاز ایسا ہے کہ عوام کو تو چھوڑیے، علما بھی ان کے شریک و سہیم نہیں ہیں ۔ فعلیک باتباعھم، اللّٰهم ارزقنا۔ فریب رائے عزیزاں کجا خورم کہ مرا حدیثِ سید کونین بر زبان باقی ست [میں عزیزوں کی رائے کے فریب میں کب آ سکتا ہوں ، جبکہ میری زبان پر سید کونین کی حدیث باقی ہے] کافروں پر انعامِ الٰہی: دنیا میں کافر پر اللہ انعام کرتا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (( اَلدُّنْیَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَ جَنَّۃُ الْکَافِرِ )) [1] [دنیا مومن کا قید خانہ اور کافر کی جنت ہے] یہ نعمتِ ظاہری در حقیقت کافر کے حق میں ایک عذابِ الٰہی ہے، کیونکہ وہ اللہ کی اخروی رحمت سے محروم ہے۔ رب تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَیَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّھُمْ بِہٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِیْنَ* نُسَارِعُ لَھُمْ فِی الْخَیْرَاتِ بَلْ لَّا یَشْعُرُوْن﴾ [المؤمنون: ۵۵۔۵۶] [کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم مال واولاد سے ان کی مدد کر رہے ہیں ؟ ایسا نہیں ہے، بلکہ ہم ان کے لیے اچھائیوں کے سلسلے میں جلدی کر رہے ہیں ، لیکن انھیں معلوم نہیں ] معلوم ہو اکہ ان کی یہ نعمت یہیں دنیا تک ہے، آخرت میں ان کا کچھ حصہ نہ ہو گا۔ مزید ارشاد ہے: [1] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۹۵۶)