کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد1) - صفحہ 595
(( إِنَّ خَیْرَ التَّابِعِیْنَ رَجُلٌ یُقَالُ لَہٗ اُوَیْسٌ )) [1] [بہترین تابعی ایسا شخص ہے جسے اویس کہا جاتا ہے] حنفیہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو تابعی مانتے ہیں ۔ وہ انھیں بقیہ ائمہ مجتہدین سے افضل جانتے ہیں اور ان کی تقلید کرنا افضل سمجھتے ہیں ۔ اول تو امام صاحب کی تابعیت میں کلام ہے اور اگر بہ فرض محال وہ تابعی تھے تو نص نبوی کی رو سے اویس قرنی ان سے افضل ہیں ، پھر ان کی تقلید کرنا زیادہ افضل ہونا چاہیے۔ پھر جب کسی تابعی کی تقلید جائز ٹھہری تو صحابہ یقینا ہر تابعی سے افضل ہیں ۔ امت کا اس پر اجماع ہے۔ ایسی صورت میں تابعین کو چھوڑ کر صحابہ کی تقلید کرنا زیادہ بہتر ہے۔ پھر افضل صحابی کی تقلید مفضول صحابی سے بہتر ہونی چاہیے، اس سے بڑھ کر صحابہ کو چھوڑیے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی تقلید سب سے بہتر ہو گی، لیکن آپ کی تقلید کو تقلید نہیں اتباع کہیں گے، اسی اتباع کو اصحابِ حدیث نے پہلے ہی اختیار کر رکھا ہے، جو مقلدین کی انتہا تھی، وہ متبعین کی ابتدا ہے۔ وللّٰه الحمد۔ بہر حال صحابہ کے بعد افضل امت تابعین ہیں ، جس کی دلیل حدیث خیرالقرون ہے۔ مسلم کی ایک روایت سے معلوم ہوتاہے کہ اَتباع تبع تابعین بھی خیرالقرون میں داخل ہیں ۔[2] اس بنیاد پر اصحابِ کتب ستہ بھی خیرالقرون میں داخل ہوں گے۔ خیریت کی خصوصیت کچھ ائمہ مجتہدین تک محدود نہیں ہے۔ حنفیہ کے نزدیک امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تابعی ہیں ، لیکن ان کے علاوہ دوسروں کے نزدیک ان کا شمار تبع تابعین میں ہے، جس طرح امام مالک تبع تابعین میں شمار کیے گئے ہیں ۔ امام شافعی رحمہ اللہ ، امام مالک رحمہ اللہ کے شاگرد اور امام احمد رحمہ اللہ امام شافعی رحمہ اللہ کے شاگرد ہیں ۔ اسی طرح چاروں امام اور چھے ائمہ حدیث اہلِ قرون مشہود لہا بالخیر میں شمار ہوتے ہیں ۔ وللّٰه الحمد۔ ان قرون کے بعد باہمی تفاضل علم و عمل کے تفاضل پر موقوف ہے۔ پس جو کوئی عالم باعمل قرونِ خیر سے زیادہ قریب ہے، وہی زیادہ افضل ہے، جیسے اصحابِ سنن ومعاجم اور مسانید وغیرہ کہ ان کو علم و ہدایت، راہنمائی وراہ بری، صدق وعدل، حفظ و دیانت، ثقاہت و انصاف، سلامت صدر و قلب، احسان و امانت، قیام بالدین، تبلیغ، شریعت، اقتداے آثارِ سلف صالحین، اخذ طریقۂ صحابہ و تابعین؛ ہر باب میں ان کو نمایاں فضیلت و برتری حاصل تھی۔ وہ ہر نقیرو قطمیر، قلیل و کثیر، جلیل و حقیر اور عسیر و یسیر [1] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۵۴۲) [2] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۵۳۳)