کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد1) - صفحہ 592
فرقۂ ناجیہ اشعریہ، ماتریدیہ اور معتزلہ کی طرح کوئی متعین جماعت نہیں ہے۔ اس کی تشکیل مختلف آبادیوں ، بستیوں اور قبائل سے ہوتی ہے۔ حدیث میں ان کی پہچان بتائی گئی ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں کہ جب سب لوگ بگڑ جائیں گے تو یہ سنبھلے رہیں گے۔ اپنا دین لے کر فتنوں سے بھاگیں گے۔ جو سنت لوگوں نے بگاڑدی ہے اس کو ٹھیک کریں گے۔ یہ ایک صالح قوم ہوتی ہے، ایسے بہت سے لوگوں میں تھوڑے ہوتے ہیں ، عاصی بہت ہیں ، مطیع کم ہوتے ہیں ۔[1] یہی اس حدیث سے مراد ہیں : (( لَاتَزَالُ طَائِفَۃٌ مِنْ أُمَّتِيْ ظَاھِرِیْنَ عَلَی الْحَقِّ )) [2] [میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر جما رہے گا] حکومتِ اسلام کے زوال کے بعد سے اصحابِ حدیث کا حال اب تک یہی رہا ہے کہ یہ ہمیشہ قلیل اور ان کے اعدا کثیر رہے ہیں ۔ ان کے دوست کم اور دشمن زیادہ رہے ہیں ۔ زمانۂ نبوت سے آخر سلطنت اسلامیہ تک ہمیشہ ان کا ڈنکا بجتا رہا۔ اگرچہ ان کے وقت میں بھی مقلد رہے، لیکن وہ کمزور، مغلوب، مقہور اور پست تھے۔ جب سے اسلام اجنبی ہو گیا، اصلی مسلمان گور میں جاسو رہے۔ دنیا ظلم وفسق حبِ جائہ ومال سے بھر گئی، حق مضمحل ہو گیا، باطل غالب آیا، مقلدوں نے سر اٹھایا، حکومت نے ان کی ہمنوائی کی، پھر بھی ہر زمانے میں ایک نہ ایک گروہ اپنی اسی پرانی چال پر قائم رہا، حامیِ سنت اور ماحیِ بدعت رہا، قیامت تک یہ کارخانہ برابر اسی طرح چلتا رہے گا، صادق و مصدوق کی بات جھوٹی نہیں ہو سکتی۔ ساری دنیا میں یہی مقلد بھائی رہ جائیں اور عامل بالحدیث، متبع سنت اور موحد خالص مٹ جائیں ، یہ نہیں ہو سکتا۔ فاسق مسلم حکمرانوں کا دور جانے دیجیے، اب جو موجودہ سلطنتِ کفر قائم ہے، مقلدین ان سلطنتوں کے دوست بن کر متبعینِ سنت کو مٹانا چاہتے ہیں ، لیکن تب بھی انکی مراد پوری نہیں ہوتی ہے ۔ یہ حکام کے پاس اہلِ اتباع کی جس قدر شکایت کرتے اور چغلی کھاتے ہیں ، جتنی کتابیں اتباعِ سنت کے رد میں لکھتے ہیں ، مناظرے کی جگہ مجادلہ، مخاصمہ، مکابرہ اور مشاتمہ کرتے ہیں ، اتنا ہی اتباع کا نور پھیلتا جاتا ہے اور بدعت کی ظلمت مٹتی جاتی ہے۔ حکام وقت بھی ان کو پہچان گئے ہیں اور اہلِ حق کے خلاف ان کے داؤ پیچ [1] مسند أحمد (۲/۱۷۷) المعجم الکبیر (۹/۱۴) [2] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۹۲۰)