کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد1) - صفحہ 585
خواہ عقلیات میں ۔ بعض اشاعرہ اور معتزلہ کا یہ قول کہ ہر مجتہد مسائل شرعیہ فرعیہ میں جہاں کوئی برہان قاطع موجود نہیں ہے، مصیب ہی ہوتا ہے، درست نہیں ہے، بلکہ اللہ کا حکم معین ہے، اس پر ظنی دلیل موجود ہے۔ جس مجتہد نے اس کو پالیا، وہ تو مصیب ہے اور جس نے نہ پایا تو وہ مخطی ہے۔ مجتہد اس بات کا مکلف نہیں ہے کہ وہ مصیب ہی ہو، کیوں کہ امر مجتہدفیہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہوتا ہے، جو کبھی مجہول ہوتا ہے اور کبھی ذرا واضح ہوتا ہے، اس لیے مخطی معذور ہوتا ہے اور ایک اجر کا مستحق اور مصیب دوہرے اجر کا مستحق۔ مخطی اپنی خطا میں بے گناہ ہے، اسی وجہ سے کسی مجتہد کو اس کی غلطی کی بنا پر عاصی، جبکہ برا بھلا کہنا درست نہیں ہے۔ جو لوگ مجتہدین اور ائمہ اربعہ کی بدگوئی کرتے ہیں ، وہ بہت برے ہیں ۔ کسی مسئلے میں مجتہد اگر خطا کر جائے اور اس کا اجتہاد قرآن و سنت کے مطابق نہ ہو تو مطلوب یہ ہے کہ اس غلطی پر عمل پیرائی سے احتراز کیا جائے۔ کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ مجتہد کو اس کی غلطی کی بنا پر برا کہا جائے۔ لیکن اس کو محنت کا اجر مل گیا، اسے برا کہنے والا مفت میں اپنی عاقبت خراب کرے گا۔ مجتہد غلطی کر سکتا ہے، قرآن خود اس پر دال ہے: ﴿ فَفَھَّمْنٰھَا سُلَیْمٰنَ﴾ [الأنبیائ: ۷۹] [ہم نے سلیمان کو فہم عطا کر دیا] اگر داود اور سلیمان علیہما السلام دونوں کا اجتہاد صحیح ہوتا تو فہمِ سلیمان کی تخصیص کی کوئی وجہ نہ تھی۔ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی ایک روایت ہے: (( إِذَا حَکَمَ الْحَاکِمُ فَاجْتَھَدَ ثُمَّ أَصَابَ فَلَہُ أَجْرَانِ، وَإِذَا حَکَمَ فَاجْتَھَدَ ثُمَّ أَخْطَأَ فَلَہُ أَجْرٌ )) [1] [حاکم اگر اجتہاد کرے اور اس کا اجتہاد صحیح نکلے تو اس کے لیے دو اجر ہیں اور اگر اجتہاد کرے لیکن اس کا اجتہاد غلط ہو جائے تو اس کے لیے ایک اجر ہے] بعض صحابہ نے بعض صحابہ کے اجتہاد کو غلط قرار دیا ہے، یہ بات حدِ شہرت کو پہنچی ہوئی ہے۔ حنابلہ کے نزدیک کوئی زمانہ مجتہد سے خالی نہیں ہوتاہے۔ یہی بات ابن دقیق العید نے بھی کہی ہے۔ زبیری کا بھی یہی خیال ہے۔ اس قول کی دلیل یہ حدیث ہے: (( لَا تَزَالُ طَائِفَۃٌ مِنْ أُمَّتِيْ ظَاھِرِیْنَ عَلَی الْحَقِّ )) [2] [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۶۹۱۹) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۷۱۶) [2] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۹۲۰)