کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد1) - صفحہ 584
کر دیتا ہے،[1] بلکہ دعا قضا کو بھی پھیر دیتی ہے۔ ’’ثمار التنکیت في شرح أبیات التبثیت‘‘ میں ہے کہ دس چیزیں ہیں جن کا ثواب میت کو ملتا ہے۔ تین کا ذکر بخاری و مسلم دونوں میں ہے۔[2] 1۔صدقہ جاریہ۔ 2۔علم جس سے لوگ مستفید ہوں ۔ 3۔نیک لڑکا جو میت کے لیے دعا کرے۔ 4۔رباط فی سبیل اللہ۔ 5۔ اچھے کام کی بنیاد ڈال جانا۔ 6۔دین کی تعلیم دے جانا۔ 7۔ قرآن شریف ترکے میں چھوڑنا۔ 8۔مسجد بنانا۔ 9۔نہر کھود جانا۔ 10۔مسافر خانہ بنوانا۔ ان کے سوا کنواں کھودنے، درخت لگانے کا بھی ذکر ہے۔ صدقہ والی حدیث بخاری میں ہے۔[3] روزے کے ثواب کا ذکر صحیحین کی روایت میں ہے۔[4] قریبی رشتے دار کی طرف سے حج کا ثواب بھی میت کو پہنچتا ہے۔ ہدیہ، دعا، استغفار، تلاوت اور نماز کا اجر بھی پہنچتا ہے، جب کہ یہ سارے کام میت کی طرف سے کیے جائیں ۔ ان کا انکار کرنا شریعت کے مقصد کے خلاف ہے۔ ہاں سوم، چہلم، ششماہی، برسی کرنا بدعت و ضلالت ہے۔ سنتِ مطہرہ میں جس قدر آچکا ہے اور جس طرح وارد ہوا ہے، اسی پر اقتصار کرنا اتباعِ سنت کی دلیل اور سعادت دارین کی علامت ہے۔ اجتہاد: ہر مجتہد غلطی کر سکتا ہے اور اس کا اجتہاد صحیح بھی ہو سکتا ہے، خواہ اس کا اجتہاد شرعیات میں ہو، [1] کنز العمال (۶/۳۴۴) [2] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۶۳۱) [3] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۲۶۰۵) [4] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۱۴۹)