کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد1) - صفحہ 565
اور یہ آیت: ﴿ وَاسْتَغْفِرْ لِذَمنْبِکَ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ﴾ [محمد: ۱۹] [اپنی اور مومنوں کے گناہ کی مغفرت چاہو] ان کی تردید کے لیے کافی ہے۔ شفاعت کی ابتدا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو گی۔ جب لوگ آدم پھر نوح پھر ابراہیم پھر موسیٰ پھر عیسیٰ علیہم السلام کے پاس جا کر شفاعت کرنے کی التجا کریں گے تو یہ اولوا العزم رسول شفاعت کرنے سے معذرت کر دیں گے، پھر لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئیں گے، آپ صلی اللہ علیہ و سلم شفاعت کرنے کے لیے تیار ہو جائیں گے اور مقام محمود پر آکر خالقِ عباد سے احوالِ عباد عرض کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو شفاعت کی اجازت مل جائے گی، پھر آپ شفاعت کریں گے۔ یہ وہ دن ہوگا، جس میں قدر و عزت اور جاہ نبوی عیاں ہو گی۔ جنت و جہنم: جنت و جہنم حق ہیں ۔ یہ دونوں مکان اس وقت موجود ہیں ۔ جزا کے دن سے پہلے ان کا وجود ہے، جیسا کہ کتاب و سنت کے نصوص اس پر دال ہیں ۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَ﴾ [آلِ عمران: ۱۳۳] [جنت پرہیزگاروں کے لیے تیار کی گئی ہے] دوسری جگہ ارشاد فرمایا: ﴿ اُعِدَّتْ لِلْکٰفِرِیْنَ﴾ [البقرۃ: ۲۴، آلِ عمران: ۱۳۱] [جہنم کافروں کے لیے تیار گی گئی ہے] شبِ معراج میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا گزر دونوں کے پاس سے ہوا۔ آدم و حوا کی سکونتِ جنت سے بھی اس کا پتا چلتا ہے۔ امام ابن القیم رحمہ اللہ نے ’’حادی الارواح‘‘ میں لکھا ہے کہ سارے صحابہ و تابعین، تبع تابعین، تمام اہلِ سنت و حدیث اور سارے فقہاے اہلِ اسلام اور اہلِ تصوف و زہد کا یہی اعتقاد ہے کہ جنت اور دوزخ اس وقت موجود ہیں ، البتہ قدریہ اور معتزلہ اسے نہیں مانتے۔ ان کا خیال ہے کہ اللہ تعا لیٰ انھیں قیامت کے دن پیدا کرے گا۔ ظاہر ہے یہ لوگ اگر انکار نہ کریں تو بدعتی کا اطلاق کس پر ہو گا؟؟ بہر حال یہ جنت اور جہنم ہمیشہ کے لیے باقی ہیں ۔ ان کو یا ان کے باسیوں کو کبھی فنا