کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد1) - صفحہ 563
(( یُضْرَبُ الصِّرَاطُ بَیْنَ ظَھْرَيْ جَھَنَّمَ )) [1] [یہ (پل) صراط جہنم کی پشت پر رکھا جائے گا] حدیث میں ہے کہ اس پل پر کوئی بجلی کی طرح گزرے گا، کوئی پرندے کی طرح۔[2] غرض کہ گزرنے کے انداز مختلف ہوں گے۔ جیسے اعمال ہوں گے، ویسے ہی مرور ہو گا۔ صراط کے دونوں طرف آنکڑے ہوں گے، جو کفار اور نافرمانوں کو جکڑ یں گے اور جہنم میں گرا دیں گے۔ سارے اہلِ حدیث کا یہی عقیدہ ہے۔ حوض: رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا حوض برحق ہے۔ یہ دو حوض ہوں گے۔ ایک میزان اور صراط سے قبل جو لوگ اپنی قبروں سے اٹھیں گے، وہ پہلے اس حوض پر آئیں گے۔ دوسرا حوض جنت کے اندر ہو گا۔ دونوں کا نام کوثر ہے۔ جب اس حوض پر امت محمدیہ آئے گی تو کچھ لوگ وہاں پہنچنے سے روک دیے جائیں گے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم فرمائیں گے: (( یَا رَبِّ! إِنَّہٗ مِنْ أُمَّتِيْ فَیُقَالُ: إِنَّکَ لَا تَدْرِيْ مَا أَحْدَثَ بَعْدَکَ )) [3] [اے رب! یہ میری امت کے لوگ ہیں ۔ جواب ملے گا: تم کو معلوم نہیں ہے کہ تمھارے بعد انھوں نے کیا چیزیں ایجاد کی ہیں ؟] ا س سے یہ معلوم ہوا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کو غیب کا علم نہیں ملا ہے۔ جو لوگ حوض پر آنے سے روک دیے جائیں گے، وہ بدعتی ہوں گے، کیونکہ احداث ابتداع ہی کے معنی میں آتا ہے۔ اس حوض کی لمبائی اتنی ہوگی کہ ایک ماہ چل کر اسے طے کیا جا سکتا ہے۔ یہ حوض چاندی سے زیادہ سفید اور مشک سے زیادہ خوشبودار ہو گا۔ وہاں تاروں سے زیادہ پیالے ہوں گے۔ جو ایک بار اس حوض کا پانی پی لے گا، اسے کبھی پیاس نہیں لگے گی۔ اعمال نامہ: کتاب یعنی اعمال نامے کا ملنا حق ہے۔ یہ اعمال نامہ مومنوں کو داہنے ہاتھ میں اور کافروں کو [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۷۰۰۰) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۸۲) [2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۷۰۰۱) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۸۳) [3] السنن الکبریٰ للبیھقي (۲/۴۳) الفاظ کے تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ یہ حدیث صحیح مسلم (۴۰۰) میں بھی موجود ہے۔