کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد1) - صفحہ 551
(( مَثَلُ أُمَّتِيْ مَثَلُ الْمَطَرِ لَا یُدْریٰ أَوَّلُہٗ خَیْرٌ أَمْ آخِرُہٗ )) [1] [میری امت کی مثال اس بارش کی سی ہے جس کے بارے میں معلوم نہ ہوکہ اس کا اول بہتر ہے کہ آخر؟] لیکن اگر اس آخر امت سے وہ لوگ مراد لیے جائیں جو مہدی علیہ السلام کے زمانۂ ظہور میں ہوں گے تو ہو سکتا ہے کہ ان حضرات کی بات صحیح ہو، اس لیے کہ تیرہ سو برس ہجرت کو گزر گئے، اب چودھویں صدی کا دوسرا سال ہے۔ اس وقت اسلام سے زیادہ کوئی دین غریب ومضمحل نہیں ہے۔ نام کی مسلمانی باقی رہ گئی ہے۔ ہر طرف کفر و فسق کا زور ہے، دنیا طلبی اور دین فروشی کا شور ہے، ان لوگوں میں خیر باقی نہیں رہ گیا ہے، پھر اس دور کے لوگ آخر امت کیسے مراد ہو سکتے ہیں ؟ کبائر کا رواج ان میں فرائض کی طرح ہے۔ زنا کاری، شراب خوری، گانا بجانا، ان کا مذہب ٹھہراہے۔ فسق و فجور اور کذب و زور ان کا دین ہو گیا ہے۔ مکر و فریب اور ظلم و جور ان کا ایمان قرار پایا ہے۔ اگر مہدی علیہ السلام کا آنا اور عیسیٰ علیہ السلام کا آنا متعین نہ ہوتا تو اس دور کے لوگ ایسے ہیں کہ نفخِ صور شاید انھیں پر ہو جاتا۔ خلفاے راشدین: امام صابوبی رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’اصحابِ حدیث شہادت دیتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سب سے افضل ابو بکر ہیں ، پھر عمر، پھر عثمان، پھر علی رضی اللہ عنہم ، یہی خلفاے راشدین بھی تھے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے فرمان: (( اَلْخَلَافَۃُ فِيْ أُمَّتِيْ ثَلَاثُوْنَ سَنَۃً )) [2] [میری امت میں تیس سال خلافت ہو گی] سے یہی مراد ہیں ۔ جب ان کا زمانہ بیت گیا تو خلافتِ راشدہ جاتی رہی۔ ملک گزندہ کا دور آگیا۔‘‘ نسفی میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد افضل بشر خلفاے اربعہ ہیں ۔ یعنی ترتیبِ خلافت کے مطابق، پھر ان کے بعد ملک و امارت ہے۔ حسن العقیدہ میں ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد ابو بکر امام برحق ہیں ، پھر عمر، پھر عثمان، پھر علی رضی اللہ عنہم پھر خلافت تمام ہو گئی۔ پھر اس کے بعد بادشاہی آگئی۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ دو سال چھے ماہ خلیفہ رہے، عمر رضی اللہ عنہ ساڑھے دس برس، عثمان رضی اللہ عنہ بارہ برس اور علی رضی اللہ عنہ چار سال نو ماہ، [1] سنن الترمذي، رقم الحدیث (۲۸۶۹) [2] سنن الترمذي، رقم الحدیث (۲۲۲۶)