کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد1) - صفحہ 534
تَشْکُرُوْا یَرْضَہُ لَکُمْ﴾ [الزمر: ۷] [اگر کفر کرو گے تو اللہ تم سے بے نیاز ہے۔ اسے اپنے بندوں کا کفر پسند نہیں اور اگر شکر گزار بنو تو وہ تم سے خوش ہو جائے گا] بندے کا اکتساب اللہ کی مخلوق ہے، اس میں کچھ شک نہیں ۔ جو اس بات کا منکر ہے، اس کا شمار اہلِ ہدایت و دین میں نہیں کیا جاتا ہے۔ جس کو اللہ نے گمراہ کر دیا ہے، اس کے یہاں کوئی عذر و حجت سود مند نہ ہو گی، بلکہ پوری حجت اللہ کے لیے ہے۔ اگر وہ چاہے تو سب کو صحیح راہ پر لگا دے، لیکن یہ بات طے ہو چکی ہے کہ جہنم جن وانس سے بھر دی جائے گی۔ اب اس قرار داد کے خلاف کیوں کر ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک فریق کو اپنے فضل سے جنت نعیم کے لیے پیدا کیا ہے اور دوسرے فریق کو اپنے عدل سے جہنم کے لیے پیدا کیا ہے۔ کوئی گمراہ ہے اور کوئی ہدایت یاب، کوئی شقی ہے اور کوئی سعید، کوئی رحمت سے قریب ہے اور کوئی اس سے دور۔ کس کا مقدور ہے کہ پوچھ سکے یہ کیا ہوا اور کیوں ہوتا ہے؟ البتہ انسان سے پو چھا جائے گا کہ تم نے کیا کیا؟ کس لیے کیا؟ کس کے لیے کیا؟ اس وقت آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہو جائے گا۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث میں آیا ہے کہ فرشتہ ماں کے پیٹ ہی میں لکھ جاتا ہے کہ رزق، عمل اور اجل کیا ہے، شقی ہے یا سعید، یہاں تک کہ کوئی آدمی جنت کے لیے کام کرتا ہے، جنت اس سے ایک ہاتھ رہ جاتی ہے۔ اتنے میں قسمت کا لکھا آگے آجاتا ہے اور پھر وہ اہلِ نار کا کام کرنے لگتا ہے اور جہنم میں داخل ہو جاتا ہے، اسی طرح اس کے برعکس ہوتا ہے۔[1] غرض کہ خیر و شر اور نفع و ضرر سب اللہ کی قضاو قدر سے ہوتا ہے۔ کوئی اس کو پھیر سکتا ہے نہ کوئی اس سے بچ سکتا ہے۔ آدمی کو وہی پہنچتا ہے، جو اللہ نے اس کی تقدیر میں لکھ دیا ہے۔ کسی میں اتنی طاقت نہیں کہ اللہ کے سوا کسی کو نفع و نقصان پہنچا سکے۔ ارشادِ خداوندی ہے: ﴿ وَ اِنْ یَّمْسَسْکَ اللّٰہُ بِضُرٍّ فَلَا کَاشِفَ لَہٗٓ اِلَّا ھُوَ وَ اِنْ یُّرِدْکَ بِخَیْرٍ فَلَا رَآدَّ لِفَضْلِہٖ﴾ [یونس: ۱۰۷] [اگر اللہ تمھیں کوئی تکلیف پہنچا دے تو اس کے سوا کوئی اسے دور نہیں کر سکتا اور اگر تم کو کوئی نفع دے دے تو اس کے فضل کو کوئی لوٹا نہیں سکتا] [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۳۰۳۶) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۶۴۳)