کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد1) - صفحہ 511
ہونے کو کتاب و سنت سے بہت اچھے انداز میں ثابت کیا ہے، لیکن کہیں طرزِ تاویل بھی اپنایا ہے۔ حسن العقیدہ میں ہے: ’’قرآن اللہ کا کلام ہے۔ اللہ نے اس کلام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف وحی کیا ہے۔ فرمایا: ﴿ وَمَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّکَلِّمَہُ اللّٰہُ اِِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرآیِٔ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوحِیَ بِاِِذْنِہٖ مَا یَشَآئُ﴾ [الشوریٰ: ۵۱] [کسی انسان کے لیے یہ ممکن نہیں کہ اللہ اس سے ہم کلام ہو سوائے وحی کے ذریعے یا پردے کے اوٹ سے یا رسول بھیجے اور اپنے حکم سے جو چاہے وحی کرے] یہ ہے حقیقتِ وحی۔[1] وحی یوں ہوتی ہے کہ کوئی بات دل میں ڈال دی جائے یا خواب دکھلا دیا جائے یا غیب کی طرف توجہ کرنے کے وقت ضروری علم کا دل میں القا ہو جائے۔ وراے حجاب یہ ہے کہ ایک کلام سنا دیا جائے اور خارج میں اس کا قائل نظر نہ آئے۔ ارسالِ رسل خود بہ خود ظاہر ہے۔ صفتِ عزت: رب کریم کی ایک صفت عزت ہے۔ فرمایا: 1۔﴿ وَ ھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ﴾ [الروم: ۲۷] [ وہ باعزت و با حکمت ہے] 2۔﴿ وَ کَانَ اللّٰہُ قَوِیًّا عَزِیْزًا﴾ [الأحزاب: ۲۵] [اور اللہ قوی و با عزت ہے] 3۔﴿ فَاِنَّ الْعِزَّۃَ لِلّٰہِ جَمِیْعًا﴾ [النسائ: ۱۳۹] [یقینا تمام عزت اللہ کے لیے ہے] 4۔﴿ سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَ﴾ [الصافات: ۱۸۰] [پاک ہے تیرا رب عزت والا رب ان کی وصف بیانی سے] 5۔(( وَعِزَّتِکَ لَا أَسْأَلُکَ غَیْرَھٗ )) [2] [تیری عزت کی قسم! اس کے سوا تجھ سے نہ مانگوں گا] 6۔ (( أَعُوْذُ بِعِزَّتِکَ )) [3] [تیری عزت کی پناہ مانگتا ہوں ] [1] الاعتقاد الصحیح للشاہ ولي اللّٰه الدھلوي مع شرحہ الانتقاد الرجیح للنواب صدیق حسن خان رحمہ اللّٰه (ص: ۱۲۳) اسی کتاب کا نام ’’حسن العقیدۃ‘‘ ہے اور مولف رحمہ اللہ نے اپنی مختلف کتابوں میں جو اقتباسات ’’حسن العقیدۃ‘‘ نامی کتاب سے نقل کیے ہیں ، اس سے محولہ بالا کتاب ہی مراد ہے ۔ [2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۶۲۰۴) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۸۲) [3] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۶۹۴۸) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۷۱۷)