کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد1) - صفحہ 492
[کیا وہ نہیں جانتا ہے جو باریک بیں خبر دار ہے] ﴿ وَ عِنْدَہٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُھَآ اِلَّا ھُوَ وَ یَعْلَمُ مَا فِیْ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ مَا تَسْقُطُ مِنْ وَّ رَقَۃٍ اِلَّا یَعْلَمُھَا وَ لَا حَبَّۃٍ فِیْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَ لَا رَطْبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ﴾ [الأنعام: ۵۹] [اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں ۔ صرف وہی انھیں جانتا ہے، وہ بحر و بر کی ساری چیزیں جانتا ہے۔ کوئی پتا بھی گرے وہ اس کو بھی جانتا ہے، زمین کی تاریکیوں خشک و تر میں ایک دانہ بھی ہو تو وہ کتاب مبین میں ہے] ﴿ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْئٍ مِّنْ عِلْمِہٖٓ اِلَّا بِمَا شَآئَ﴾ [البقرۃ: ۲۵۵] [وہ اس کے کسی علم کا کلی ادر اک نہیں کر سکتے مگر صرف اتنا جتنا وہ چاہے] 4۔﴿ اَنْزَلَہٗ بِعِلْمِہٖ﴾ [النسائ: ۱۶۶] [اسے اپنے علم سے اتارا] 5۔﴿ اِِلَیْہِ یُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَۃِ﴾ [حمٰ السجدۃ: ۴۷] [قیامت کا علم اسی کے پاس ہے] 6۔﴿ رَبُّنَا وَسِعَ رَبُّنَا کُلَّ شَیْئٍ عِلْمًا﴾ [الأعراف: ۸۹] [ہمارا رب ہر شے کو اپنے علم سے احاطہ کیے ہے] 7۔﴿ اِِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰہِ﴾ [الأحقاف: ۲۳] [یقینا علم اللہ کے پاس ہے] موسیٰ علیہ السلام نے جب کہا کہ میں بڑا عالم ہوں تو اللہ نے ان پر عتاب کیا کہ علم اللہ کے سپرد کیوں نہ کیا؟[1] امام بخاری رحمہ اللہ نے حدیثِ استخارہ میں جابر رضی اللہ عنہ سے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : (( إِنِّيْ أَسْتَخِیْرُکَ بِعِلْمِکَ )) [2] [ہم تیرے علم کے ساتھ استخارہ کرتے ہیں ] امام بیہقی رحمہ اللہ نے مرفوعاً روایت نقل کی ہے، جس میں اللہ کے علم غیب کا بھی ذکر ہے: (( اَللّٰہُمَّ بِعِلْمِکَ الْغَیْبِ وَقُدْرَتِکَ عَلَی الْخَلْقِ )) [3] [اے اللہ! تیرے علمِ غیب اور قدرتِ خلق کے ساتھ] فلاسفہ کا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ کو جزئیات کا علم نہیں ہے اور دہریہ کہتے ہیں کہ وہ اپنی ذات کو [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۱۲۲) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۳۸۰) [2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۱۱۰۹) [3] سنن النسائي، رقم الحدیث (۱۳۰۵)