کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد1) - صفحہ 473
آٹھویں فصل مجاذیب کے خوارقِ عادات امور کی حقیقت صر ف ’’اللہ اللہ‘‘ کا وظیفہ کوئی کلام ہے نہ توحید: اگر کوئی کہے کہ کبھی زندوں یا مردوں کا ایسی جماعت سے ملاپ ہوتا ہے جن سے خوارقِ عادات امور کا ظہور ہوتا ہے جیسے مجاذیب، تو ایسے کاموں کا کیا حکم ہے جبکہ لوگ ان خوارق کو دیکھ کر اس مجذوب کے معتقد ہو جاتے ہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ لوگ جن کا نام مجذوب ہے اور یہ لوگ لفظ اللہ کو اپنے منہ سے یوں چباتے ہیں اور اپنی زبان سے اس پاک نام کو اس طرح نکالتے ہیں کہ عربی لفظ ہی باقی نہیں رہتا تو یہ لوگ ابلیس لعین کاایک لشکر ہیں اور کائنات کے وہ بڑے گدھے ہیں جن کو خوش نما مصنوعی بوریا اور جل پہنا دی گئی ہے۔ لفظ ’’اللہ‘‘ کو خبر کے بغیر جیسے ’’اللہ، اللہ‘‘ کہنا کوئی کلام ہے نہ کوئی توحید، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے بزرگ نام کے ساتھ ایک کھیل تماشا ہے کہ اس کو عربی تلفط کے طریقے سے خارج کر دیا ہے اور کلمہ توحید کے معانی سے خالی کر دیا ہے۔ اگر کسی شخص کا نام زید ہو اور ایک جماعت زید، زید کہنا شروع کر دے تو لوگ اس کو استہزا واہانت اور مذاق سمجھیں گے۔ خصوصاً جب کہ اس بکواس کے ساتھ تحریفِ لفظ بھی بڑھا دیں ، پھر تو اس مسخرا پن میں کوئی شک بھی باقی نہیں رہتا ہے۔ اب دیکھنا یہ چاہیے کہ کتاب و سنت میں کہیں اللہ جل جلالہ کے نام کو منفرد طور پر تکرار کے ساتھ کہنے اور پڑھنے کا بھی ذکر آیا ہے یا نہیں ؟ کیونکہ کتاب و سنت میں بھی ذکر، توحید، تسبیح، تہلیل اور تکبیر مطلوب ہے۔ ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اذکار اور دعائیں موجود ہیں جو سب اس چیخ چنگھاڑ سے خالی ہیں ۔