کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد1) - صفحہ 464
ارشادِ خداوندی ہے: ﴿ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ﴾ [النسائ: ۴۸] [بے شک اللہ اس بات کو نہیں بخشے گا کہ اس کا شریک بنایا جائے ] چنانچہ غیر اللہ کی نذر کا مال ’’حلوان کاہن‘‘ (کاہن کی شیرینی) اور ’’مہر بغی‘‘ (فاحشہ عورت کی اجرت) کی طرح ہے، کیونکہ اس میں نذر دینے والے پر جعل سازی ہے اور اس کے وہم میں یہ بات ڈالنا ہے کہ ولی اسے نفع و نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اب اس سے بڑھ کر منکر کی اور کیا تقریر و تائید ہو گی یا اس سے زیادہ اور کون سی جعل سازی اور تلبیس ہو گی کہ میت کے لیے دی گئی نذر کا مال ہڑپ کیا جائے اور اس سے بڑی کون سی مصیبت ہو گی کہ منکر کو معروف ٹھہرا دیا جائے؟! قبر پرستوں اور مشرکوں کی نذر و نیاز میں مماثلت: مشرکین بتوں کے لیے جو نذر مقرر کرتے تھے، وہ ان قبر پرستوں کے اسلوب و طریقے کے مطابق تھی۔ نذر ماننے والے کا یہ عقیدہ ہوتا تھا کہ اس نذر کے ذریعے کوئی بلا ٹل جائے گی اور کوئی فائدہ حاصل ہو گا۔ اس لیے وہ اپنے مال کا ایک حصہ کسی بت کے سامنے پیش کرتا تھا اور اپنے غلے میں سے ایک حصہ مقرر کر کے مجاوروں کے پاس لاتا تھا، وہ مجاور اس مال کو لیتے اور اس کے وہم و گمان میں اس عقیدے کی حقانیت کو ثابت کرتے۔ اسی طرح وہ جانوروں کو بت خانوں کے دروازوں پر ذبح کرتے، اسی قسم کے افعال و اعمال کو مٹانے اور ان سے روکنے کے لیے انبیا و رسل دنیا میں تشریف لائے تھے۔ غیر اللہ کی نذر و نیاز کے ساتھ وابستہ باطل عقیدہ: اگر غیر اللہ کے لیے نذر ماننے والا شخص یہ کہے کہ ہمیں تو اس نذر کے ذریعے نفع حاصل ہوا اور تکلیف دور ہوئی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ بتوں کا بھی یہی حال تھا، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر تھا۔ ان سے اس طرح کی بعض چیزوں کا مشاہدہ کیا جاتا تھا، جیسے بت کے پیٹ سے آواز آنا اور اس کا بعض پوشیدہ معاملات کی خبر دینا۔ تو کیا یہ ان چیزوں کے حقیقت ہونے کی دلیل بن سکتی ہے؟ ہر گز نہیں ! یہ تو اسلام کو منہدم کرنے اور ارکانِ اَصنام کو مضبوط کرنے کے مترادف ہے۔