کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد1) - صفحہ 458
بکرا اور زین خان کا مرغا؛ یہ سب عبادت ہی کی اقسام ہیں ۔ غیر اللہ کے لیے سجدہ کرنا اور اس کے نام کی قسم کھانا: ہم نے کسی کے متعلق یہ نہیں سنا کہ وہ انھیں سجدہ بھی کرتا ہو۔ اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو ان سے کچھ بعید بھی نہیں ۔ ہاں ایک ثقہ راوی نے خبر دی ہے کہ اس نے ایک شخص کو دیکھا جس نے اس ولی کے مشہد کے دروازے پر سجدہ کیا، جس کی تعظیم و عبادت کے ارادے سے وہ حاضر ہوا تھا۔ وہ اس ولی کے نام کی قسم بھی کھاتا تھا۔ بلکہ اس کے سامنے اگر کوئی حق دار اللہ کی قسم کھاتا تو وہ ہرگز قبول نہ کرتا اور اگر کسی ولی کی قسم کھاتا تو مان لیتااور اسے سچا گمان کرتا، بعینہ یہ حال بت پرستوں کا تھا۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ وَاِِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَحْدَہُ اشْمَاَزَّتْ قُلُوْبُ الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ وَاِِذَا ذُکِرَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِہٖ اِِذَا ھُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ﴾ [الزمر: ۴۵] [اور جب اس اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان لوگوں کے دل تنگ پڑ جاتے ہیں جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے اور جب ان کا ذکر ہوتا جو اس کے سوا ہیں تو اچانک وہ بہت خوش ہو جاتے ہیں ] کیا غیر اللہ کی قسم کھانا کفر ہے؟ صحیح حدیث میں آیا ہے: (( مَنْ کَانَ حَالِفاً فَلْیَحْلِفْ بِاللّٰہِ أَوِ لْیَصْمُتْ )) [1] [جسے قسم کھانا ہو، وہ اللہ کی قسم کھائے، ورنہ چپ رہے] نبی مکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (( مَنْ حَلَفَ بِاللَّاتِ وَالْعُزّٰی فَلْیَقُلْ: لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ )) [2] [جس نے لات و عزیٰ کی قسم کھائی تو وہ ’’لا الٰہ الا اللّٰه‘‘ پڑھے] یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اس حلف کی وجہ سے مرتد ہو گیا تھا، اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ و سلم [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۲۵۳۳) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۶۴۶) [2] صحیح ابن حبان (۱۳/ ۱۱) نیز دیکھیں : صحیح البخاري (۴۵۷۹) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۶۴۷)