کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد1) - صفحہ 451
فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ﴾ [الکوثر: ۲] [پس تو اپنے رب کے لیے نماز پڑھ اور قربانی کر] یعنی نحر اور ذبح صرف اللہ کے لیے ہونا چاہیے، غیر اللہ کے لیے نہیں ۔ ظرف کی تقدیم اسی کا فائدہ دے رہی ہے۔ مزید فرمایا: ﴿ وَاَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰہِ فَلاَ تَدْعُوْا مَعَ اللّٰہِ اَحَدًا﴾ [الجن: ۱۸] [اور یہ کہ بلا شبہہ مساجد اللہ کے لیے ہیں ، پس اللہ کے ساتھ کسی کو مت پکارو] یہ نام نہاد مسلمان اپنے اولیا کے ساتھ جو کام کرتے ہیں ، یہ بعینہٖ مشرکین کا عمل ہے اور یہ اس فعل کے سبب مشرک ہو گئے ہیں ۔ رہا ان کا یہ کہنا کہ ہم کسی کو اللہ کا شریک نہیں بناتے، تو یہ محض ان کا زبانی جمع خرچ ہے، کیونکہ ان کا فعل ان کے قول کو جھٹلاتا ہے۔ ان کا اپنے شرک سے عدم اقرار لائقِ التفات نہیں ہے۔ اگر آپ کہیں کہ وہ اس بات سے بالکل ناواقف ہیں کہ وہ اپنے افعال و اعمال کے ذریعے مشرک بن گئے ہیں تو میں اس کے جواب میں کہوں گا: ان کا یہ جہل ایک عذر لنگ ہے، تبھی تو فقہا نے فقہ کی کتابوں میں ردت کے باب میں یہ تصریح فرمائی ہے: ’’من تکلم بکلمۃ الکفر یکفر، وإن لم یقصد معناھا‘‘[1] [جس شخص نے کلمہ کفر بولا تو وہ کافر ہو جائے گا، اگر چہ اس نے اس کے معنی کا ارادہ نہ کیا ہو] اس سے ثابت ہوا کہ یہ جاہل اسلام کی حقیقت کو نہیں پہچانتے اور نہ توحید ہی کی ماہیت سے آگاہ ہیں ، تب تو یہ اصلی کافر ہوں گے، کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر صرف اپنی ہی عبادت کو فرضِ عین قرار دیا ہے، چنانچہ اس کا فرمان ہے: ﴿ اَلَّا تَعْبُدُوْا اِِلَّا اللّٰہَ﴾ [فصلت: ۱۴] [اللہ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو] نیز اس نے اخلاص کا قطعی حکم دیتے ہوئے فرمایا ہے: [1] البحر الرائق (۵/۱۳۴) حاشیۃ ابن عابدین (۴/۲۲۴)