کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد1) - صفحہ 448
اور ’’وثن‘‘ اللہ کے سوا ہر معبود باطل کو کہتے ہیں خواہ وہ مورت ہو یا درخت، پتھر ہو یا استھان، مکان ہو یا قبر یا اس کے سوا کوئی اور چیز ہو۔ پھر یہ لوگ قبروں کے گرد یوں گھومتے اور چکر لگاتے ہیں جس طرح حاجی لوگ اللہ کے گھر کا طواف کرتے ہیں ۔ پھر وہ بیت اللہ کے ارکان (رکن یمانی اور حجر اسود) کی طرح ان مشاہد اور قبوں کا استلام (چومنا یا ہاتھ لگانا) کرتے ہیں اور میت کو کفریہ کلمات کے ساتھ مخاطب کرتے ہیں ، جیسے ان کا یہ کہنا: ’’علی اللّٰه ثم علیک‘‘ [اللہ پر اور پھر تجھ پر (میں بھروسا کرتا ہوں )] سختیوں میں انھیں ہی پکارتے ہیں اور اس طرح کے دیگر کام کرتے ہیں ۔ ہر شہر والوں کا معبود جدا ہے: پھر ہر قوم کی ایک الگ شخصیت ہے جسے وہ پکارتے ہیں ، چنانچہ اہلِ عراق و ہند شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ کو پکارتے ہیں ۔ اہلِ تہامہ نے ہر شہر میں ایک مردہ مقرر کر رکھا ہے جس کے نام کی دہائی دی جاتی اور اسے پکارا جاتا ہے، جیسے ’’یا زیلعی‘‘، ’’یا ابن العجیل‘‘۔ اہلِ مکہ و طائف ’’یا ابن عباس‘‘ پکارتے ہیں ۔ اہلِ مصر ’’یا رفاعی‘‘ ’’یا احمد البدوی‘‘ پکارتے ہیں اور سادات بکریہ اور اہلِ جبال ’’یا ابا طیر‘‘ اور اہلِ یمن ’’یا ابن علوان‘‘ پکارتے ہیں ۔ بالجملہ ہر قریہ اور بستی میں ایک یا چند فوت شدہ لوگ ہیں جن سے ندا کی جاتی ہے اور ان سے حصولِ خیر اور دفعِ ضرر کی امید باندھی جاتی ہے، بہر حال ان مردوں کے ساتھ ان کا یہ عمل بعینہٖ وہی ہے جو مشرکین بتوں کے ساتھ کرتے تھے، جیسے ہم نے ’’الأبیات النجدیۃ‘‘ میں ذکر کیا ہے: [1] أعادوا بھا معنی سواعا و مثلہ یغوث و ود بئس ذلک من ود [ انھوں نے اپنے بتوں کے ساتھ سواع، یغوث اور ود جیسی محبت کی اور یہ بہت بُری محبت ہے] وقد ھتفوا عند الشدائد باسمھا کما یھتف المضطر بالصمد الفرد [اور سختیوں کے وقت وہ ان کے نام کی دہائی دیتے ہیں جس طرح لاچار اور پریشان شخص [1] اس سے مراد امام محمد بن اسماعیل امیر یمانی رحمہ اللہ کا قصیدہ ’’الأبیات النجدیہ‘‘ ہے جو انھوں نے دعوت نجدیہ اور اس کے امام کی مدح میں کہا تھا۔