کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد1) - صفحہ 445
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جب حوا[ کو حمل ٹھہرا، جبکہ ان کا کوئی بچہ زندہ نہیں رہتا تھا، تو ابلیس نے آ کر کہا: جب تک تم اپنے بچے کا نام عبدالحارث نہیں رکھو گی، تب تک تمھارا کوئی بچہ زندہ نہیں رہے گا۔ حوا[ نے وہ نام رکھ لیا تو ان کا وہ بچہ زندہ رہا۔ یہ کام انھوں نے شیطان کی وحی اور وسوسے سے کیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں اور اس عمل کو شرک قرار دیا، کیونکہ حارث شیطان کا نام تھا۔[1] شرک فی التسمیہ کا یہ سارا واقعہ درمنثور وغیرہ میں درج ہے۔[2] ٭٭٭ [1] مسند أحمد (۵/۱۱) اس کی سند میں موجود راوی ’’عمر بن ابراہیم البصری‘‘ کے متعلق امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’لا یحتج بہ‘‘ ’’وہ قابل حجت نہیں ‘‘۔ پھر جیسے کہ دوسری سند سے ثابت ہے کہ یہ روایت سمرہ بن جندب پر موقوف ہے، مرفوع نہیں ہے۔ علاوہ ازیں اس کی سند میں حسن بصری رحمہ اللہ مدلس ہیں اور عن سے روایت کرتے ہیں ۔ نیز حسن بصری رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر مذکورہ تفسیر کے خلاف کی ہے۔ (تفسیر ابن کثیر: ۴/۲۷۴) اگر ان کے ہاں مذکورہ روایت مرفوع ہوتی تو وہ اسے کبھی نہ چھوڑتے۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ مسند احمد اور سنن الترمذی کی مذکورہ روایت پایہ ثبوت کو نہیں پہنچتی۔ [2] تفسیر الدر المنثور (۳/۶۲۳)