کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد1) - صفحہ 438
4۔ مالی عبادت: چوتھی عبادت مالی ہے، جیسے اللہ کا حکم بجا لانے کے لیے کچھ مال خرچ کرنا، مثلاً زکات اور صدقہ۔ یوں تو ابدان، اموال، افعال اور اقوال میں واجبات و مندوبات کی کئی قسمیں ہیں ، لیکن ان کی بنیادی اقسام یہی ہیں ۔ بعثتِ انبیا کا بنیادی مقصد: اللہ تعالیٰ نے از اول تا آخر سارے پیغمبر اسی لیے بھیجے ہیں کہ وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی خالص عبادت کی طرف دعوت دیں ۔ انھیں اس لیے نہیں بھیجا تھا کہ وہ لوگوں کے سامنے یہ حقیقت ثابت کریں کہ اللہ ان کا خالق اور رازق ہے، کیونکہ وہ تو پہلے ہی سے اس کا اقرار کرتے تھے۔ وہ اس کے منکر کب تھے کہ رسول اس دعوت کے لیے بھیجے جاتے، جیسا کہ گذشتہ صفحات میں ہم یہ بات ثابت کر چکے ہیں ، لہٰذا انھوں نے انبیا کی دعوت کے جواب میں یہ کہا تھا: ﴿ اَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللّٰہَ وَحْدَہٗ وَ نَذَرَ مَا کَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا﴾ [الأعراف:۷۰] [کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ ہم اس اکیلے اللہ کی عبادت کریں اور انھیں چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے تھے؟] ان لوگوں کو تو صرف رسولوں کی اللہ تعالیٰ کی خالص عبادت کی طرف دعوت دینے پر اعتراض تھا، نہ کہ اس بات پر کہ کوئی اللہ نہیں ہے اور نہ وہ یہ کہتے تھے کہ اللہ کی عباد ت نہیں کرناچاہیے، بلکہ وہ اللہ کو بھی پوجتے تھے اور غیر اللہ کو بھی، اور یہی ان کا شرک تھا، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَلَا تَجْعَلُوْا لِلّٰہِ اَنْدَادًا وَّ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ﴾ [البقرۃ: ۲۲] [پس اللہ کے لیے کسی قسم کے شریک نہ بناؤ، جب کہ تم جانتے ہو] یعنی تم جانتے ہو کہ اللہ کا کوئی ہمسر اور شریک نہیں ۔ وہ لوگ دورانِ حج کہتے تھے: (( لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ إِلَّا شَرِیْکاً ھُوَ لَکَ تَمْلِکُہٗ وَ مَا مَلَکَ )) [1] [(اے اللہ!) میں حاضر ہوں ، سوائے ایک شریک کے تیرا کوئی شریک نہیں ہے، جبکہ اس [1] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۱۸۵)