کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد1) - صفحہ 430
[اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ] نیز انھوں نے اپنی قوم سے کہا: ﴿ اَلَّا تَعْبُدُوْا اِِلَّا اللّٰہَ﴾ [فصلت: ۱۴] [اللہ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو] مزید فرمایا: ﴿ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰہَ وَاتَّقُوْہُ وَاَطِیْعُوْنِ﴾ [نوح: ۳] [کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو اور میرا کہنا مانو] ’’لا الٰہ الا اللہ‘‘ کا بھی یہی مطلب ہے، یعنی اس ایک ذات پاک کے علاوہ ساری کائنات کا کوئی معبود برحق نہیں ہے۔ رسولوں نے اسی کلمے کی طرف تمام لوگوں کو دعوت دی کہ تم اس کلمے کے مطابق اپنا عقیدہ بناؤ، خالی زبان سے یہ کلمہ پڑھ لینے پر اکتفا نہ کرو۔ اس کلمے کا معنی یہ ہے کہ اکیلے اللہ کو معبود سمجھو اور جو معبود اللہ کے سوا ہیں ، ان کی نفی کرو اور ان سے بے زار ہو جاؤ۔ اس اصل کے مضمون میں کسی طرح کا شک و شبہہ نہیں ہے اور اگر ہے تو پھر ایمان نہیں ہے۔ اصلِ سوم: توحید دو طرح کی ہے: پہلی قسم: ایک توحید تو توحیدِ ربوبیت، خالقیت اور رازقیت وغیرہ ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ساری کائنات کا خالق، پالنے والا اور رزق دینے والا فقط اللہ ہے۔ یہ وہ توحید ہے جس کا کوئی مشرک بھی انکار نہیں کرتا اور نہ اس میں کسی کو اللہ کا شریک بناتا ہے، بلکہ سارے کافر اور مشرک، سوائے دہریوں کے، اس توحید کا اقرار کرتے ہیں ۔ دوسری قسم: توحید کی دوسری قسم توحیدِ عبادت ہے۔ یعنی عبادت کی جتنی بھی قسمیں ہیں ، وہ صرف اللہ کے لیے بجا لائی جائیں ۔ اسی توحید میں مشرکین نے اللہ کے شریک ٹھہرائے ہیں ۔ خود اسی لفظ ’’شریک‘‘ میں سے اللہ تعالیٰ کا اقرار نکلتا ہے۔ بہر حال پیغمبروں کو مبعوث کیا گیا، جنھوں نے اپنی امتوں کے