کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد1) - صفحہ 411
کو شریک بنائے گا، انھیں اپنا سفارشی ٹھہرائے گا اور اس گمان پر اللہ کو چھوڑ دے گا کہ جو کام شرکاے بشر سے نکلتا ہے، وہ کام ان سے بھی نکل جائے گا، مگر وہ اپنے اس قیاس میں خطاکار اور سخت غلطی پر ہے، اس نے خالق و مخلوق کے درمیان کچھ فرق نہیں کیا اور عبد ورب اور غنی وفقیر کا کوئی امتیاز نہ رکھا، ایک غلامِ محض اور بندے کو، جو اپنے مالک کے اذن کے بغیر کچھ بھی نہیں کر سکتا ہے، شریک، معاون اور مددگار ٹھہرا لیا اور اسی قیاس پر یاروں نے بتوں کو اور گور وپیر پرستوں نے اہلِ قبور اور مشائخ کو پوجا۔ اللہ تعالیٰ سے متعلق مذکورہ قیاس، قیاس مع الفارق ہے: جو شخص مخلوق میں سے کسی کی طرف سفارش کرتا ہے، وہ سفارش محض خالی ایک سبب ہے جو مشفوع الیہ کو اس کام کی تحریک دے دیتا ہے جس کی بابت وہ شفاعت کرنا چاہتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کبھی مشفوع الیہ کے پاس اس امر کا معارض موجود ہوتا ہے، مثلاً مشفوع فیہ امر اس کے نزدیک مکروہ ہوتا ہے، لہٰذا جب وہ شفاعت اس معارض سے قوی تر ہوتی ہے تو قبول ہو جاتی ہے اور اگر معارض قوی تر ہو تو وہ مقبول نہیں ہوتی ہے۔ پھر کبھی یہ ہوتا ہے کہ مشفوع الیہ کے نزدیک دو امر متعارض ہوتے ہیں اور وہ قبول اور رد میں متردد ہو جاتا ہے، جیسے محبت، رغبت ورہبت اور عدم رغبت و رہبت۔ یہ حالت اس شفاعت کے برخلاف ہے، جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہو گی، کیونکہ اس میں تو کسی اور چیز کے بغیر خود اللہ تعالیٰ سفارشی کا محرک ہو گا، کیونکہ سفارشی ایک مامور اور مطیع بندہ وغلام ہے، بر خلاف اس سفارشی کے جو مخلوق کے پاس کسی کی سفارش کرتا ہے کہ یہ سفارشی مشفوع الیہ کا محرک ہوتا ہے، کیونکہ اس کا کام رکا ہوا ہے اور یہ اس سے نفع اور معاونت کا حصول اور ضرر کا دفاع چاہتا ہے، مثلاً سفارش کرنے والا اس سے عطا وغیرہ کا طالب ہے اور ان دونوں میں سے ہر ایک دوسرے کا محتاج ہے، تو وہ حقیقت میں اس کا شریک ہوا، اگرچہ مشفوع الیہ کا مملوک یا بندہ کیوں نہ ہو۔ جسے اللہ تعالیٰ نے اس راز کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائی ہے، اس پر توحید وشرک کی حقیقت کھل کر سامنے آگئی ہے۔ ومن لم یجعل اللّٰه لہ نورا فما لہ من نور۔ علامہ ابن القیم رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’إغاثۃ اللھفان‘‘[1] میں زیارت و شفاعت کا یہ مضمون [1] إغاثۃ اللھفان من مصائد الشیطان (۱/۲۲۱)