کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد1) - صفحہ 402
پانچویں فصل صاحبِ قبر کے توسل سے دعا کرنا زیارتِ قبور کے آداب: جب کوئی شخص کسی مشہور صالح مسلمان کی قبر کا قصد کرے تو زیارت کر کے وہاں کھڑے ہو کر اسماے حسنیٰ اور اس قبر والے کی قدر و منزلت کے وسیلے کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے سوال کرے تو کیا یہ بدعت اس قبر والے مردے کی عبادت شمار ہو گی؟ کیا اس پر یہ بات صادق آئے گی کہ اس نے غیر اللہ کو پکارا اور رحمن کے سوا کسی اور کو پوجا؟ اس سے ایمان کا لفظ سلب ہو گیا اور اس قبر پر وثن اور بت ہونا صادق آیا؟ اس دعا کرنے والے پر مرتد ہو جانے کا حکم لگا؟ اس کی بیوی اس سے جدا ہو گئی؟ اس کا مال مباح ٹھہرا اور اس کے ساتھ اہلِ ردت جیسا معاملہ کرنا چاہیے یا نہیں یا وہ شخص کبیرہ گناہ کا مرتکب یا مکروہ کام کا فاعل ہوا ہے؟ اس سے پہلے یہ بات گزر چکی ہے کہ کسی نبی یا ولی یا عالم کے ساتھ توسل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔[1] اب یہ شخص جو قبر کے پاس آیا اور اس نے قبر کی زیارت کی اور اکیلے اللہ کو پکارا اور اس قبر والے سے توسل کیا، مثلاً یوں کہا: ’’اللّٰهم إني أسالک أن تشفیني من کذا، وأتوسل إلیک بما لھذا العبد الصالح من العبادۃ لک، أو المجاھدۃ فیک، أو التعلم، و التعلیم خالصاً لک‘‘ [اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے فلاں بیماری سے شفا عطا فرما اور میں تیری طرف اس صاحبِ قبر نیک آدمی کی اس عبادت کا، جو اس نے تیری عبادت کی اور [1] توسل کا یہ طریقہ صحابہ و تابعین اور ائمہ سلف میں مروج نہیں تھا۔ تفصیل کے لیے دیکھیں : قاعدۃ جلیلۃ في التوسل والوسیلۃ لابن تیمیۃ والتوسل، أنواعہ وأحکامہ للألباني۔