کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد1) - صفحہ 393
جس کی طرف شیخ ابن القیم رحمہ اللہ نے اشارہ کیا ہے کہ اس نے مذکورہ کتاب لکھی ہے، وہ شخص ’’ابن المفید‘‘ ہے۔ ’’نہر فائق‘‘ میں لکھا ہے کہ شیخ قاسم نے ’’شرح درر البحار‘‘ میں لکھا ہے کہ یہ جو اکثر عوام نذر مانتے ہیں کہ وہ صلحا میں سے کسی کی قبر کے پاس آ کر کہتے ہیں : اے فلاں سید! میرے گم شدہ کو واپس لا دے یا بیمار کو شفا دے، میں تجھے اتنا سونا چاندی دوں گا یا تیری قبر پر چراغ یا تیل چڑھاؤں گا، ایسا کرنا چند وجوہ سے اجماعاً باطل ہے۔ انھوں نے مزید لکھا ہے کہ من جملہ اس کے ایک گمان یہ ہے: ’’إن المیت یتصرف في الأمر، و اعتقاد ھذا کفر‘‘ [فوت شدہ معاملات میں تصرف کرتا ہے اور یہ اعتقاد رکھنا کفر ہے] انتھیٰ۔ مذکورہ بالا کلام کا قائل ائمہ حنفیہ میں سے ہے۔ ذرا غور کریں ، انھوں نے غیر اللہ کی نذر و نیاز کے باطل ہونے پر اجماع کا ذکر کیا ہے اور اس اعتقاد کے ساتھ نذر ماننے کو کفر ٹھہرایا ہے۔ صاحبِ ’’روض‘‘ فرماتے ہیں : ’’إن المسلم إذا ذبح للنبي صلی اللّٰه علیہ و سلم کفر‘‘ انتھیٰ۔ [جو مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے کوئی جانور ذبح کرتا ہے، وہ کافر ہو جاتا ہے] یہ قائل ائمہ شافعیہ میں سے ہے۔ جب اس قائل کے نزدیک سید الرسل صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے جانور ذبح کرنا کفر ٹھہرا تو پھر ان ذبائح کا کیا ذکر ہے جو تمام فوت شدگان کے لیے قربان کیے جاتے ہیں ؟ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ’’شرح اربعین‘‘ میں لکھا ہے: ’’من دعا غیر اللّٰه فھو کافر‘‘ انتھیٰ۔ [جس شخص نے غیر اللہ سے دعا کی اور اسے پکارا وہ کافر ہو گیا] شیخ الاسلام تقی الدین ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے رسالہ سنیہ میں تحریر فرمایا ہے کہ جو شخص کسی نبی یا مرد صالح کے حق میں غلو کرتا ہے اور اس میں کسی طرح کی الوہیت ٹھہراتا اور کہتا ہے: ’’یا سیدي فلان أغثني أوانصرني أو ارزقني أو اجبرني أو أنا في حسبک‘‘ [اے فلاں سید! میری مدد کر یا میری نصرت کر یا مجھے رزق عطا کر یا میرا نقصان پورے کر دے یا میں تیرے رحم و کرم پر ہوں ] یا اس طرح کے دیگر اقوال کہے تو یہ سب شرک اور گمراہی ہے۔ ان کے قائل سے توبہ کروائی