کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد1) - صفحہ 370
یہ تو سراسر وہ استغاثہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی میت سے درست نہیں اور پھر میت بھی کون جو سالہا سال سے مٹی کے تہوں کے نیچے جا چکی ہے۔ مذکورہ بالا دونوں شعروں سے متعلق غالب گمان یہ ہے کہ ایسے شعر شاعروں سے غفلت اور عدم تیقظ کے سبب صادر ہوتے ہیں ۔ وہ ان شعروں سے صرف نبوت و ولایت کی تعظیم کا قصد و ارادہ رکھتے تھے۔ اگر کوئی انھیں اس غفلت پر آگاہ کر دیتا تو وہ متنبہ ہو کر ضرور رجوع کرتے اور اپنی غلطی کا اقرار کر لیتے۔ ہم نے اس طرح کی صورت حال کو بہت دیکھا اور سنا ہے کہ اکثر اہلِ علم وادب اور اہلِ فطنت کو اس قسم کی غفلت لاحق ہوتی ہے۔ نیز صوفی شعرا کے کلام میں بھی اس طرح کی شطحیات اور طامات اکثر ملتی ہیں ۔ توحید پرست اہلِ دانش کی ذمے داری: جو شخص اس طرح کے کام یا کلام سے واقف ہو اور اس کا فاعل و قائل بھی زندہ ہو، تو اس پر واجب ہے کہ وہ شرعی دلائل کے ذریعے اس کو ہوشیار کر دے۔ اگر وہ رجوع کر لے تو بہت اچھا، ورنہ پھر وہی حکم ہو گا جو پہلے گزر چکا ہے۔ اگر یہ قائل و فاعل زیر زمین جا سو یا ہو، تو جو لوگ زندہ ہیں ، ان کو ایسے کلام کے خلل ونقص پر آگاہ کر دینا چاہیے۔ قصیدہ بردہ اور قصیدہ ہمزیہ میں اس قسم کا غلو سے لبریز کلام بہت زیادہ ہے۔ جن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی مدح اور صلحا و ائمہ ہدی کی مدح میں مبالغہ آمیزی کی، ان کے کلام میں تو یہ غلو بے شمار اور غیر محدود ہے، اس جگہ اس کے متعلق زیادہ کلام کرنے کا فائدہ نہیں ، فقظ تنبیہ کرنا غرض تھی جو کر دی گئی ہے، تا کہ اللہ نے جسے دل و گوش عطا کیا ہے وہ خبردار رہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ وَذَکِّرْ فَاِِنَّ الذِّکْرٰی تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ﴾ [الذاریات: ۵۵] [اور نصیحت کر، کیونکہ یقینا نصیحت ایمان والوں کو نفع دیتی ہے] ﴿ رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ھَدَیْتَنَا وَ ھَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْکَ رَحْمَۃً اِنَّکَ اَنْتَ الْوَھَّابُ﴾ [آل عمران: ۸] [اے ہمارے رب! ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر، اس کے بعد کہ تو نے ہمیں ہدایت دی اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما، بے شک توہی بے حد عطا کرنے والا ہے]