کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد1) - صفحہ 37
1۔مقدمہ کتاب اور پہلی پانچ فصلیں امام شوکانی رحمہ اللہ کے رسالے ’’الدر النضید في إخلاص التوحید‘‘ کے ترجمے پر مشتمل ہیں ۔ 2۔چھٹی فصل امام ابن قیم رحمہ اللہ کی کتاب ’’إغاثۃ اللھفان من مصاید الشیطان‘‘ سے ماخوذ ہے۔ 3۔خاتمہ کتاب علامہ سلیمان بن سحمان رحمہ اللہ کی کتاب ’’کشف غیاھب الظلام عن أوھام جلاء الأفھام‘‘ سے اخذ کردہ ہے۔ اس دوران میں مولف رحمہ اللہ نے کئی مقامات پر علمی فوائد اور اضافہ جات بھی شامل کتاب کیے ہیں ، جیسا کہ وہ فرماتے ہیں : ’’اس رسالے میں کسی جگہ ان کے رسالے ’’الدر النضید‘‘ پر کچھ زیادتی اور اضافہ بھی ہوگیا ہے۔‘‘ اس رسالے کی مدتِ تالیف سے متعلق فرماتے ہیں : ’’نو شوال بروز بدھ یہ رسالہ شروع کیا تھا اور آج تیرہ شوال ۱۳۰۵ھ بروز اتوار پانچ دن میں بحمدہ تعالیٰ و عونہ ختم ہوا۔‘‘ یہ رسالہ مولف رحمہ اللہ کی زندگی میں بانوے صفحات میں شائع ہوا تھا۔[1] ملاک السعادۃ في إفراد اللّٰہ تعالیٰ بالعبادۃ: یہ مختصر رسالہ مولف رحمہ اللہ کے الفاظ میں ’’اﷲ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانے اور الحاد کی گندگیوں سے عقیدے کی تطہیر کے لیے تصنیف کیا گیا ہے۔‘‘ یہ کتابچہ دراصل امام محمد بن اسماعیل امیر صنعانی رحمہ اللہ کے رسالے ’’تطھیر الاعتقاد من أدران الإلحاد‘‘ کا ترجمہ ہے، جو ایک مقدمے اور آٹھ فصلوں پر مشتمل ہے۔ مقدمہ کتاب میں عقیدے کے پانچ اصول اور توحید کی اقسام کا تذکرہ ہے۔ پہلی فصل میں عبادت کی اقسام، دوسری فصل میں شرک فی العبادۃ کی صورتیں ، تیسری فصل میں وسیلے کا شرک، چوتھی فصل میں مخلوق سے استغاثہ، پانچویں فصل میں عبادتِ غیر اﷲ کی مختلف صورتیں ، چھٹی فصل میں کیا قبر پرستی کا عام ہونا، اس کے حق ہونے کی دلیل ہے؟ ساتویں فصل میں گنبد خضرا کی شرعی حیثیت اور
[1] اس رسالے ’’الدر النضید في إخلاص التوحید‘‘ کا ایک ترجمہ مولانا عبد الرشید حنیف جھنگوی نے بھی تحریر کیا تھا۔ (جماعت اہل حدیث کی تصنیفی خدمات، ص: ۱۰۵)