کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد1) - صفحہ 368
عقیدت میں غلو شرک کا دروازہ ہے: آج کے گور پرست اور پیر پرست اولیا اور صلحا کے حق میں اعتقاد رکھتے ہیں اور اس میں غلو کرتے ہیں ، جبکہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے اللہ کے ہاں سب سے اکرم اور معزز اور اولادِ آدم کے سردار ہونے کے باجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی امت کو اپنے حق میں غلو کرنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے: ’’جس طرح نصرانیوں نے عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں غلو کیا ہے، میرے حق میں ویسا غلو نہ کرنا، میں تو بس اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں ۔‘‘[1] مگر اس کے باوجود ان گور پرستوں اور پیر پرستوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا کہنا مانا نہ ان آیات ہی کا کچھ پاس لحاظ کیا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ لَیْسَ لَکَ مِنَ الْاَمْرِ شَیْئٌ﴾ [آل عمران: ۱۲۸] [تیرے اختیار میں اس معاملے سے کچھ بھی نہیں ] ﴿ وَمَآ اَدْرٰکَ مَا یَوْمُ الدِّیْنِ *ثُمَّ مَآ اَدْرٰکَ مَا یَوْمُ الدِّیْنِ *یَوْمَ لاَ تَمْلِکُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَیْئًا وَّالْاَمْرُ یَوْمَئِذٍ لِّلّٰہِ﴾ [الانفطار: ۱۷۔۱۹] [اور تجھے کس چیز نے معلوم کروایا کہ جزا کا دن کیا ہے؟ پھر تجھے کس چیز نے معلوم کروایا کہ جزا کا دن کیا ہے؟ جس دن کوئی جان کسی جان کے لیے کسی چیز کا اختیار نہ رکھے گی اور اس دن حکم صرف اللہ کا ہوگا] نیز اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے متعلق یہ بیان کیا کہ وہ اپنے نفس کے نفع و ضرر کے بھی مالک نہیں ہیں ۔ [الأعراف: ۱۸۸] نیز ان قبر پرستوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی یہ بات سن کر نہ دی کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے قرابت داروں سے کیا کہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے خاندان کے ایک ایک مرد وزن کا نام لے لے کر پکارا اور فرمایا تھا: (( یَا فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ لَا أُغْنِيْ عَنْکَ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا، یَا فُلَانَۃَ بِنْتَ فُلَانٍ لَا أُغْنِيْ عَنْکِ مِنَ اللّٰہِ شَیْئاً، یَا بَنِيْ فُلَانٍ لَا أُغْنِيْ عَنْکُمْ مِنَ اللّٰہِ شَیْئاً )) [2] [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۳۴۴۵) [2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۴۷۷۱) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۰۶)