کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد1) - صفحہ 363
کہ یہ کام شرک ہے تو وہ کبھی اس کام کا ارتکاب نہ کرے۔ اس کا جوا ب یہ ہے کہ بات یہی ہے جو اس جگہ کہی گئی، لیکن یہ بات بھی مخفی نہ رہے کہ ارتداد کے اسباب میں یہ بات مقرر ہو چکی ہے کہ ثبوتِ شرک کے لیے علم درکار نہیں ہے، جو شخص کفریہ کام یا کلام کرے گا، وہ کافر ہو جائے گا، خواہ اسے کفریہ کلام کے معنی معلوم ہوں یا نہ ہوں ۔ دعوتِ توحید کے سلسلے میں علما کی ذمے داریاں : بہر حال جسے گور پرست اور پیر پرست لوگوں کے ان اقوال و افعال اور مردوں کے متعلق ان کے اعتقاد کا علم ہو تو اس پر واجب ہے کہ وہ حجتِ شرعیہ کو ان تک پہنچا دے اور اللہ نے جس چیز کا حکم دیا ہے، وہ ان کے سامنے بیان کر دے، کیونکہ قرآن عظیم میں اللہ تعالیٰ نے علما سے یہ عہد لیا ہے کہ وہ اللہ کے حکم کو کھول کر بیان کر دیں اور سنا دیں ، اسے پوشیدہ نہ رکھیں ۔ جو شخص حاجات کے وقت مردوں سے دعا کرتا ہو، نزولِ مصائب کے وقت ان سے استغاثہ کرتا ہو، ان کی نذر و نیاز مانتا ہو، ان کے لیے جانور ذبح کرتا ہو، ان سے اللہ تعالیٰ جیسی تعظیم و محبت سے پیش آتا ہو، یا کسی زندہ پیر کے ساتھ یہ کام یا اس طرح کا کوئی اور کام کرتا ہو تو علما کی ذمے داری ہے کہ وہ اسے یہ بات کہہ دیں کہ تو یہ جو کام کر رہا ہے، یہ وہی شرک ہے جو اہلِ جاہلیت کا شرک تھا، بلکہ یہ اس سے بھی بڑھ کر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی شرک کا قلع قمع کرنے کے لیے اپنے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو مبعوث کیا ہے، اپنی کتاب قرآن مجید میں اس شرک کی مذمت نازل کی ہے اور اپنے پیغمبر سے عہد لیا ہے کہ وہ اس کے بندوں کو یہ بات پہنچا دیں کہ وہ تب تک مومن نہ ٹھہریں گے جب تک توحید میں مخلص نہ ہوں گے اور اکیلے اللہ کی عبادت نہ کریں گے۔ جب وہ لوگ اس کو خوب اچھی طرح جان لیں ، مگر اس کے باوجود اپنی سرکشی اور رحمان کے ساتھ کفر پر جمے رہیں تو پھر علما پر یہ بات واجب ہے کہ ان سے یہ بات کہہ دیں کہ اگر وہ اس ضلالت سے باز نہ رہیں گے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم جو چیز لائے ہیں ، اس کی طرف رجوع نہ کریں گے تو ان کا خون اور مال حلال اور مباح ہو جائے گا۔ اس سے اگر وہ رجوع کر لیں تو درست ہے، ورنہ ان پر تلوار کا عادلانہ فیصلہ نافذ ہو گا، جس طرح کتابِ مبین اور سنتِ سید المرسلین صلی اللہ علیہ و سلم ان کے مشرک بھائیوں سے متعلق بیان کرتی ہے۔