کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد1) - صفحہ 361
ہے، اس کے لیے جانور ذبح کرتا ہے اور عمدہ اور قیمتی مال خرچ کر کے اس کا قرب حاصل کرنا چاہتا ہے۔ لہٰذا ثابت ہوا عمل کے بغیر خالی کلمہ پڑھنا اسلام کو ثابت نہیں کرتا ہے۔ اگر بالفرض زمانہ جاہلیت کا کوئی شخص یہ کلمہ پڑھے، پھر اپنے بت پر مجاور بن کر اس کی پوجا کرے تو وہ ہر گز مسلمان نہیں ہو گا۔ کلمہ گو مشرک کے حق میں ایک غلط استدلال اور اس کی حقیقت: اگر کوئی شخص یہ کہے کہ سیدنا عبداللہ بن عدی رضی اللہ عنہ سے مروی لمبی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے منافقین کے قتل سے منع کیا ہے۔ (رواہ أحمد و الشافعي) [1] ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو منافق کے قتل سے روک دیا تھا،[2] اور اسامہ رضی اللہ عنہ سے کہا تھا کہ کیا تو نے اس کا دل چیر کر دیکھ لیا تھا جو تو نے اسے کلمہ پڑھنے کے بعد قتل کر ڈالا؟ (رواہ الشیخان) [3] اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ جس نے ’’لا الہ الا اللہ‘‘ کہا اور اس کے افعال و اعمال سے کوئی بات خلافِ توحید ظاہر نہیں ہوئی تو وہ مسلمان ہے اور اس کا خون اور مال محفوظ رہے گا، جب تک وہ ان ارکانِ اسلام کو بجا لایا کرے گا جو اس حدیث میں مذکور ہیں : (( أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَشْہَدُوا أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، وَیُقِیْمُوْا الصَّلَاۃَ، وَیُؤْتُوْا الزَّکَاۃَ، وَیَحُجُّوْا الْبَیْتَ، وَیَصُوْمُوْا رَمَضَانَ )) [4] [مجھے لوگوں سے لڑنے کا حکم ہے تاوقتیکہ وہ ’’لَا إِلٰہ إِلَّا اللّٰه‘‘ کی گواہی دینے لگیں اور نماز قائم کرنے لگیں اور زکات ادا کرنے لگیں اور بیت اللہ کا حج کرنے لگیں اور رمضان کے روزے رکھنے لگیں ] اسی طرح جس شخص نے اسلام کی شہادت کے طور پر یہ کلمہ کہا اور اس پر اتنا وقت نہ گزرا کہ اس وقت میں اس پر ارکانِ اسلام میں سے کوئی چیز واجب ہوتی تو ایسی صورت میں اس کو مسلمان سمجھنا اور اس کے زبانی اقرار کا اعتبار کرنا ہی واجب ہے، جس طرح کہ ایک شخص نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو یہ کلمہ کہہ کر [1] مسند أحمد (۵/۴۳۲) مسند الشافعي (۱/۶۳، ۶۴) [2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۴۳۵۱) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۰۶۴) [3] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۹۷) [4] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۱۳۹۹) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۰) صحیح البخاري، رقم الحدیث (۴۰۲۱) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۹۶)