کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد1) - صفحہ 346
نسائی کی ایک دوسری روایت میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے: ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے کہا: ’’مَاشَآئَ اللّٰہُ وَشِئْتَ‘‘ [جو اللہ چاہے اور جو آپ(محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) چاہیں ] آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (( أَجَعَلْتَنِيْ لِلّٰہِ نِدّاً، قُلْ: مَا شَائَ اللّٰہُ وَحْدَہٗ )) [کیا تو نے مجھے اللہ تعالیٰ کا ہمسر ٹھہرا دیا ہے؟ یوں کہہ! جو اکیلا اللہ چاہے] [1] سیدنا طفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے خواب میں دیکھا کہ میں چند یہودیوں کے پاس آیا ہوں اور میں نے ان سے کہا: تم لوگوں کے کیا کہنے اگر تم یہ نہ کہتے: ’’عزیر ابن اللّٰہ‘‘[عزیر(علیہ السلام)اللہ کے بیٹے ہیں ] انھوں نے جواب میں کہا: تمھارے بھی کیا کہنے اگر تم یہ نہ کہتے: ’’ماشاء اللّٰه و شاء محم‘‘ [جو اللہ تعالیٰ چاہے اور جو محمدصلی اللہ علیہ وسلم )چاہیں ] پھر چند نصرانیوں پر میرا گزر ہوا تو میں نے کہا: تم اچھے ہو اگر تم ’’مسیح ابن اللہ‘‘ [مسیح (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں ] نہ کہتے، انھوں نے جواباً کہا: تم بھی اچھے تھے اگر تم ’’ماشاء اللّٰه و شاء محمد‘‘ [جو اللہ تعالیٰ چاہے اور جو محمدصلی اللہ علیہ وسلم ) چاہیں ] نہ کہتے۔ جب میں صبح بیدار ہوا تو میں نے لوگوں کے سامنے اس خواب کا ذکر کیا، پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اس خواب کو بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے دریافت کیا: تم نے کسی اور سے بھی یہ بات ذکر کی ہے؟ میں نے عرض کی: ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: طفیل نے ایک خواب دیکھا اور تم سے اس کا ذکر کیا، تم نے ایک ایسا کلمہ کہا جو مجھے اس بات سے روک رہا تھا کہ میں تمھیں اس سے منع کروں ، تم یہ نہ کہو: ((مَاشَائَ اللّٰہُ وَ شَائَ مُحَمَّدٌ )) بلکہ یوں کہا کرو: ’’مَاشَائَ اللّٰہُ وَحْدَہٗ‘‘ (رواہ ابن ماجہ[2] اس موضوع پر اور بھی احادیث مروی ہیں ۔ یہ احادیث اس بات کی دلیل ہیں کہ اللہ اور رسول کو یا اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے کسی بندے کو مشیت میں شریک کرنا ایک قسم کا شرک ہے اور اس شرک کویہود و نصاریٰ کے اس شرک کی طرح ٹھہرایا گیا ہے جس میں وہ [عزیر و عیسیٰi کو] اللہ کا بیٹا ثابت کرتے ہیں ۔ شرک کا شائبہ بھی نا قابل برداشت ہے: ایک خطیب نے خطبہ پڑھتے ہوئے کہا: ’’من یطع اللّٰه و رسولہ فقد رشد و من یعصھما فقد غوی‘‘ [جو شخص اللہ اور اس کے رسولصلی اللہ علیہ وسلم )کی اطاعت کرے گا وہ ہدایت پا [1] عمل الیوم واللیلۃ (۹۸۸) [2] سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۲۱۱۸)