کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد1) - صفحہ 322
جَھَنَّمَ وَسَآئَ تْ مَصِیْرًا﴾ [الفتح: ۶] [اور (تاکہ) ان منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو سزا دے جو اللہ کے بارے میں گمان کرنے والے ہیں ، برا گمان، انھی پر بری گردش ہے اور اللہ ان پر غصے ہوا اور اس نے ان پر لعنت کی اور ان کے لیے جہنم تیار کی اور وہ لوٹنے کی بری جگہ ہے] قرآن مجید میں تین مقامات پر اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ ان مشرکوں نے اللہ تعالیٰ کی کماحقہ قدر نہیں کی، چنانچہ فرمایا: ﴿وَ مَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖٓ ﴾ [الأنعام: ۹۱] [1] [اور انھوں نے اللہ کی قدر نہیں کی، جو اس کی قدر کا حق تھا] جو شخص کسی اور کو اللہ کے برابر اور اس کا ہمسر ٹھہراتا اور اس سے محبت کرتا ہے، اسی سے ڈرتا اور امید رکھتا ہے اور اس کے سامنے عاجزی اختیار کرتا ہے، وہ کیا خاک اللہ تعالیٰ کی قدرو منزلت کرے گا اور اس کی عزت و قیمت سمجھے گا۔ ان کے اسی جرم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ثُمَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِِرَبِّھِمْ یَعْدِلُوْنَ﴾ [الأنعام: ۱] [پھر (بھی) وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، اپنے رب کے ساتھ برابر ٹھہراتے ہیں ] دورِ جاہلیت کے شرک کی نوعیت: مشرکین نے اللہ تعالیٰ اور اپنے معبودوں کے درمیان جس برابری اور ہمسری کو ثابت کیا تھا، جہنم میں جانے کے بعد وہ اس بات کو جان لیں گے کہ ان کا اپنے معبودوں کو اللہ کے برابر اور اس کا ہمسر ٹھہرانا ہی ان کی گمراہی تھی، چنانچہ وہ جہنم کی آگ میں اپنے معبودوں سے، جو وہیں ان کے ساتھ ہوں گے، کہیں گے: ﴿ تَاللّٰہِ اِِنْ کُنَّا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ *اِِذْ نُسَوِّیْکُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ﴾ [الشعرآئ: ۹۷، ۹۸] [اللہ کی قسم! بے شک ہم یقینا کھلی گمراہی میں تھے۔ جب ہم تمھیں جہانوں کے رب کے برابر ٹھہراتے تھے] [1] نیز دیکھیں : سورۃ الحج (آیت: ۷۴) سورۃ الزمر (۶۷)