کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد1) - صفحہ 293
اقراری تھے کہ پیدا کرنا، رزق دینا، موت سے ہمکنار کرنا، زندگی بخشنا اور اس طرح کے دیگر کام اللہ ہی کے اختیار میں ہیں ، وہی ان چیزوں کی مستقل ملکیت رکھتا ہے، جیسا کہ قرآن کا مطالعہ کرنے والے پر یہ بات مخفی نہیں ہے۔ رہی وہ بات جو مذکورہ موقف کے قائل نے حافظ ابن القیم رحمہ اللہ سے نقل کی ہے تو وہ بھی صحیح نہیں ہے، کیونکہ علامہ ابن القیم رحمہ اللہ کا کلام ان کی کتابوں میں اس موقف کے بالکل خلاف ہے۔ چنانچہ حافظ ابن القیم رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’شرح منازل‘‘ میں لکھا ہے کہ گور پرست جو کام کرتے ہیں شرک ہے۔ پھر انھوں نے شرک کی دوقسمیں : شرک اکبر اور شرک اصغر بنا کر لکھا ہے: ’’و من أنواعہ ۔أي الشرک الأکبر۔ طلب الحوائج من الموتیٰ، والاستغاثۃ بھم، والتوجہ إلیھم، وھذا أصل شرک العالم۔۔۔الخ‘‘[1] [شرک اکبر کی اقسام میں سے مردوں سے حاجات طلب کرنا، ان سے استغاثہ کرنا اور ان کی طرف متوجہ ہونا ہے اور یہی دنیا کے شرک کی اصل اور بنیاد ہے] ہم نے اپنی کتاب ’’الدرالنضید‘‘ میں حافظ ابن القیم رحمہ اللہ اور دیگر تمام اہلِ علم کے اقوال ان کی مشہور تالیفات سے نقل کر دیے ہیں اور ان کے اتفاق کا تذکرہ کر دیا ہے کہ وہ سب ہماری بات اور موقف کی موافقت کرنے والے ہیں ۔ میری کتاب ’’اخلاص التوحید‘‘ میں مذکورہ اقوال کے تراجم موجود ہیں ۔ توحیدِ باری تعالیٰ کے اثبات کے لیے اقوالِ رجال کی ضرورت نہیں : توحید کو اللہ عزوجل کے لیے خالص کرنا، شرک کے تمام ذرائع اور اسباب کو قطع کرنا؛ اس بات کا محتاج نہیں ہے کہ اس کے لیے لوگوں کے اقوال نقل کیے جائیں یا دلائل سے استدلال کیا جائے، کیونکہ اخلاصِ توحید تو وہ مسئلہ ہے جس کے لیے سارے رسول معبوث ہوئے اور تمام کتابیں نازل ہوئیں ۔ مسئلہ توحید کو سمجھنے کے لیے لمبی چوڑی تفصیل کے بجائے اتنی سی مختصر بات جان لینا ہی کافی ہے۔ لیکن جس شخص کو اس بات میں کوئی شک و شبہہ ہو تو وہ قرآن مجید میں غور و فکر کرے، اسے یہ معلوم ہو جائے گا کہ اثباتِ توحیدِ باری تعالیٰ ہی نزولِ قرآن کا سب سے بڑا مقصد ہے۔ [1] مدارج السالکین (۱/۳۴۶)