کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد1) - صفحہ 287
لہٰذا جب نبی و پیغمبر کی قبر جائے نماز نہیں ہو سکتی اور جو اسے مسجد ٹھہرائے اس پر اللہ کا غضب ٹوٹ پڑے اور وہ قبر ایک بت ٹھہرے تو پھر کسی اور ولی، پیر اور شہید کی کیا ہستی ہے کہ اس کی قبر مسجد ٹھہرائی جائے؟ 8۔ عیافت، طِرْق اور طیرہ: ابو قبیصہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے: (( إِنَّ الْعَیَافَۃَ وَالطِّرْقَ وَالطِّیَرَۃَ مِنَ الْجِبْتِ )) (رواہ أحمد و أبو داود و النسائي و ابن حبان) [1] [یقینا عیافت (پرندوں کے ذریعے اچھا یا برا شگون لینے کا پیشہ)، طرق (پیش گوئی کے لیے کنکریاں پھینکنا) اور طیرہ (نحوست پکڑنا) شرک ہے] یعنی نحوست اور بد فالی کے قصد سے پرندہ اڑانا اور لکیریں کھینچنا، جیسے خط، رمل اور بدفالی لینا بت پرستی ہے۔ 9۔ دھاگے وغیرہ میں گرہیں لگا کر پھونکنا: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی مرفوع حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے: (( مَنْ عَقَدَ عُقْدَۃً ثُمَّ نَفَثَ فِیْھَا فَقَدْ سَحَرَ، وَمَنْ سَحَرَ فَقَدْ أَشْرَکَ، وَمَنْ تَعَلَّقَ شَیْئًا وُکِلَ إِلَیْہِ )) (رواہ النسائي) [2] [جس شخص نے دھاگے وغیرہ میں گرہ لگائی، پھر اس میں کچھ پڑھ کر پھونکا تو اس نے گویا جادو کیا اور جس نے جادو کیا وہ مشرک ہو گیا] کچھ لوگ ناڑی پر آیات قرآنیہ پڑھ کر گرہ لگاتے ہیں اور اسقاطِ حمل وغیرہ سے بچاؤ کی خاطر یہ باندھنے کو دیتے ہیں ۔ گو ایسا کرنا جائز ہے، لیکن سلف صالحین میں یہ طریقہ مروج و معروف نہیں تھا، لہٰذا احتیاط ہی بہتر ہے۔ 10۔ کاہن اور عراف سے غیب کی خبریں پوچھنا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے: [1] مسند أحمد (۵/۶۰) سنن أبي داؤد، رقم الحدیث (۳۹۰۷) سنن النسائي الکبری (۶/۳۲۴) صحیح ابن حبان (۱۳/۵۰۲) [2] سنن النسائي (۳۵۴۲) اس کی سند میں ’’عباد بن میسرہ‘‘ راوی ضعیف ہے اور سند میں انقطاع بھی ہے۔