کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد1) - صفحہ 285
امام نووی رحمہ اللہ نے امام مازری رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے کہ سارے دم جائز ہیں بشرطیکہ وہ کتاب اللہ یا ذکر اللہ پر مشتمل ہوں اور وہ منتر ممنوع ہیں جو عجمی زبان میں ہوں یا جن کے معانی معلوم نہ ہوں ، کیونکہ ممکن ہے اس میں کفریہ الفاظ شامل ہوں ۔[1] ’’تمائم‘‘ کا واحد تمیمہ ہے، یہ اس چیز کو کہتے ہیں جو گلے میں یا بدن پر لٹکائی جائے، تا کہ اس سے کوئی فائدہ حاصل ہو اور نقصان ٹل جائے۔ زمانہ جاہلیت کے لوگ یہ کام کیا کرتے تھے۔ ’’تِوَلَہ‘‘ ایک قسم کا ہار ہے جس کے پہننے یا پہنانے کا مقصد بیوی کو اس کے خاوند کی نگاہ میں محبوب بنانا ہوتا ہے۔ قاموس وغیرہ میں ایسے ہی ہے۔[2] اس کو بھی زمانہ جاہلیت کے لوگ موثر جانتے تھے۔ 5۔ ذاتِ اَنواط: بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو کہا تھا کہ ہمارے لیے بھی ایک ذاتِ انواط مقرر کر دیں ، جس طرح ان لوگوں (مشرکوں ) کا ذاتِ انواط ہے۔ ’’ذاتِ انواط‘‘ ایک بیری کا درخت تھا جس پر (بابرکت بنانے کے لیے) مشرک لوگ اپنے ہتھیار لٹکاتے تھے۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (( اَللّٰہُ أَکْبَرُ! قُلْتُمْ وَ الَّذِيْ نَفْسِيْ بِیَدِہٖ کَمَا قَالَتْ بَنُوْ إِسْرَائِیْلَ اِجْعَلْ لَنَا إِلٰھاً کَمَا لَھُمْ آلِھَۃٌ )) [اللہ اکبر! قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم نے بھی وہی بات کہی جو بنی اسرائیل نے کہی تھی کہ ہمیں بھی ان کے معبودوں کی طرح کا ایک معبود بنا دو] (اسے ترمذی نے ابن ابی واقدلیثی سے روایت کیا اور صحیح کہا ہے) [3] 6۔ غیر اللہ کی قسم کھانا: غیر اللہ کی قسم کھانے سے متعلق سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (( مَنْ حَلَفَ بِغَیْرِ اللّٰہِ فَقَدْ کَفَرَ أَوْ أَشْرَکَ ))[4] (رواہ الترمذي و حسنہ، و الحاکم و صححہ) [جس نے غیر اللہ کی قسم کھائی بلاشبہہ اس نے کفر کیا یا شرک کیا] [1] شرح صحیح مسلم للنووي (۱۴/ ۱۶۸) [2] القاموس المحیط (ص: ۱۲۵۵) [3] سنن الترمذي، رقم الحدیث (۲۱۸۰) [4] سنن الترمذي، رقم الحدیث (۱۵۳۵) مستدرک الحاکم (۱/۵۲)