کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد1) - صفحہ 267
دین پر تمسک کرنے والا انگارہ پکڑنے والے کی طرح ہے۔ علماے متاخرین کے عرف میں سنت وہ ہے جو شبہاتِ اعتقادات سے خصوصاً مسائلِ ایمان باللہ وملائکہ وکتب و رسل ویوم آخر میں سالم ہو۔ اسی طرح مسائلِ قدر اور فضائلِ صحابہ میں شبہات سے خالی ہو۔ اس باب میں اُن کی کئی مولفات ہیں جن کا نام انھوں نے کتبِ سنت اور اصولِ دین و عقائد رکھا ہے۔ انھوں نے اس علم کا نام سنت اس لیے رکھا ہے کہ اس کی شان بہت بڑی ہے اور جو کوئی اس کے برخلاف ہے وہ ’’علیٰ شَفَا جُرُفٍ ھَارٍ‘‘ (کسی گھاٹی کے کنارے پر ہے جو گرنے والی ہو) ہے۔ اہلِ طریقت کے نزدیک غربت دو طرح پر ہے: ایک غربت ظاہرہ، دوسری غربت باطنہ۔ غربت ظاہرہ فاسقوں اور ریاکاروں کے درمیان اہلِ صلاح کی غربت ہے اور علما کی غربت جاہلوں اور بد اخلاق لوگوں کے درمیان اور زاہدین کی غربت دنیا فانی کے سازو سامان کی رغبت کرنے والوں کے درمیان۔ ’’غربتِ باطنہ غربتِ نہمت (خواہش وحاجات) ہے۔ یعنی عارفین کی غربت ساری خلق کے درمیان یہاں تک کہ علما وزہّاد کے بھی درمیان۔ بلاشبہہ وہ لوگ اپنی عبادت وعلم اور اپنے زہد کے ساتھ قائم ہیں اور یہ لوگ اپنے معبود کے ساتھ ٹھہرے ہوئے ہیں جس کو وہ چھوڑ نہیں سکتے۔‘‘[1] انتہیٰ دنیا اگر دہند نہ جنبم ز جائے خویش من بستہ ام حنائے قناعت بپائے خویش [اگر لوگ مجھے دنیا دیں تو میں اپنی جگہ سے جنبش نہ کروں کیونکہ میں نے اپنے پاؤں میں قناعت کی منہدی لگا رکھی ہے] غربتِ اسلام کے اسباب کے بیان میں ایک رسالہ ’’کشف اللثام‘‘[2] ہے، جو اختصار کے باوجود احوال کثیرہ کے بیان پر مشتمل ہے۔ خلاصہ کلام: سارے کلام کا ماحصل یہ ہے کہ جو دین صدق وحق پیغمبر علیہم السلام ونبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ و سلم لائے [1] روضۃ الأفکار والأفھام لمرتاد حال الإمام وتعداد ذوي الإسلام، المسمیٰ بــ ’’تاریخ نجد‘‘ (ص: ۳۶) [2] یہ مولف رحمہ اللہ کا تالیف کردہ کتابچہ ہے، جو ’’کشف اللثام عن غربۃ أھل الإسلام‘‘ کے نام سے مطبوع ہے۔