کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد1) - صفحہ 255
ہے تا کہ پرہیز گاری اختیار کرو] ﴿اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْادِیْنَھُمْ وَکَانُوْا شِیَعًا لَّسْتَ مِنْھُمْ فِیْ شَیْئٍ﴾ [الأنعام: ۱۵۹] [بیشک جن لوگوں نے اپنے دین کو جدا جدا کر دیا اور گروہ گروہ بن گئے، آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں ] اختلاف کا سبب: اس اختلاف کا منشا علم پر عدم عمل ہے۔ جس طرح کوئی شخص حق کو باطل سے پہچانتا اور اُن کے درمیان تمییز کرتا ہو، لیکن قولاً وفعلاً وعملاً اُس کا اتباع نہ کرے۔ یا اس کا منشا عمل بلا علم ہے کہ اصنافِ بدع میں اجتہاد کرتا ہے اور اللہ پر جو چاہتا ہے علم کے بغیر کہتا ہے، سو پہلی بات میں یہود کی مشابہت ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْتُمُوْنَ مَآ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَالْھُدٰی مِنْم بَعْدِ مَا بَیَّنّٰہُ لِلنَّاسِ فِی الْکِتٰبِ اُولٰٓئِکَ یَلْعَنُھُمُ اللّٰہُ وَ یَلْعَنُھُمُ اللّٰعِنُوْنَ﴾ [البقرۃ: ۱۵۹] [جو لوگ ہماری اتاری ہوئی دلیلوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں باوجودیکہ ہم اسے اپنی کتاب میں لوگوں کے لیے بیان کر چکے ہیں ، ان لوگوں پر اللہ کی اور تمام لعنت کرنے والوں کی لعنت ہے] اور دوسری بات میں نصاریٰ کی مشابہت ہے جو دین میں غلو کرتے ہیں اور ناحق بات کہتے اور سیدھی راہ سے گمراہ ہیں ۔ اسی طرح اللہ نے اس امت کے چند طوائف کو منتسبین الی العلم سمیت اُس حال میں گرفتار کر دیا جس میں یہود ونصاریٰ مبتلا تھے، یعنی حُبِ دنیا اور کتمانِ حق، کیونکہ وہ لوگ کبھی کتمانِ حق براہِ بخل کرتے تھے اور دوسروں کا فضل میں اپنے برابر ہونا مکروہ رکھتے تھے اور کبھی علم کے عوض جاہ ومال اور ریاست حاصل کرتے تھے۔ وہ اس لیے حق کو چھپاتے تھے کہ کہیں اظہار حق سے ان کی ریاست و جاہ میں کچھ کمی اور خلل نہ پڑ جائے۔ کبھی کوئی دوسرا کسی مسئلے میں ان سے خلاف کرتا اور کسی مخالف کا ہم قول ہو جاتا تو یہ اُس علم کو مخفی رکھتے جس میں مخالف کی حجت ہوتی، اگرچہ مخالف کے مبطل ہونے کا یقین نہ کرتے۔ اسی لیے امام عبد الرحمن بن مہدی رحمہ اللہ وغیرہ نے کہا ہے: ’’أھل العلم یکتبون ما لہم و ما علیہم، وأھل الأھواء لا یکتبون إلاّ ما لہم‘‘[1] [1] سنن الدارقطني (۱/ ۲۶) التحقیق في أحادیث الخلاف لابن الجوزي (۱/ ۲۴)