کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد1) - صفحہ 244
نعمتِ توحید پر اظہارِ تشکر: ان افعال کو دیکھ کر ہر عارفِ ایمان پر اسلام کی غربت واجنبیت ظاہر ہوتی ہے اور دین میں اُس کی بصیرت بڑھتی ہے۔ وہ خدا سے ڈر کر طاعتِ مولیٰ میں جدوجہد کرتا ہے اور جو نعمتِ توحید اُس کو اللہ نے بخشی ہے، اُس پر شکر ادا کرتا ہے، اس لیے کہ اللہ نے اُس کو زمرۂ ہالکین (ہلاک ہونے والی جماعت) سے نکال کر فائزین میں شامل کیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ اَلَآ اِنَّ اَوْلِیَآئَ اللّٰہِ لَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَ لَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ *الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ کَانُوْا یَتَّقُوْنَ﴾ [یونس: ۶۲، ۶۳] [یاد رکھو اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور (برائیوں سے) پرہیز کرتے ہیں ] وہ لوگوں میں اس نعمت کی تحدیث کرتا ہے اور اپنے عقیدۂ توحید وسنت پر جامد ہے۔ اس نے اپنے دل، زبان اور منھ پر اس کو واجب کیا اور اپنی بلند آواز سے کلمہ توحید پکارا ہے۔ فرمانِ ربانی ہے: ﴿قُلْ بِفَضْلِ اللّٰہِ وَ بِرَحْمَتِہٖ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوْا ھُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ﴾ [یونس: ۵۸] [آپ کہہ دیجئے کہ بس لوگوں کو اللہ کے اس انعام اور رحمت پر خوش ہونا چاہیے، وہ اس سے بدرجہا بہتر ہے جس کو وہ جمع کر رہے ہیں ] وہ اپنے رب سے دعا گو ہے اور کہتا ہے: ﴿ رَبِّ فَلاَ تَجْعَلْنِی فِی الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ *وَاِِنَّا عَلٰی۔ٓ اَنْ نُّرِیَکَ مَا نَعِدُھُمْ لَقٰدِرُوْنَ﴾ [المؤمنون: ۹۴، ۹۵] [تو اے میرے پروردگار! تو مجھے ان ظالموں کے گروہ میں نہ کرنا۔ ہم کچھ وعدے انھیں دے رہے ہیں ۔ سب آپ کو دِکھانے پر ہم یقینا قادر ہیں ] بالجملہ یہ گور پرست، پیر پرست حظوظ دنیویہ وشہوات نفسیہ میں مبتلا ہیں اور یہی ان کی غایتِ مراد اور نہایتِ قصد ہے۔ یہ لوگ وعدہ و وعید سے غافل اور رازِ تخلیق سے نا آشنا ہیں ۔ قرآن مجید میں ہے: ﴿ مَنْ کَانَ یُرِیْدُ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَھَا نُوَفِّ اِلَیْھِمْ اَعْمَالَھُمْ فِیْھَا وَ ھُمْ فِیْھَا لَا یُبْخَسُوْنَ﴾ [ھود: ۱۵]