کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد1) - صفحہ 221
پندرہ (۱۵) کتابوں کے نام ذکر کیے ہیں اور ڈاکٹر محمد اجتبا ندوی صاحب نے عقیدے کے موضوع پر ان کی کل تینتیس (۳۳) کتابوں کے نام تحریر کیے ہیں ، لیکن استاذ گرامی جناب ڈاکٹر اختر جمال محمد لقمان سلفی مدنی (استاذ دار الحدیث مکہ مکرمہ) نے اپنی عربی تصنیف ’’النواب صدیق حسن القنوجي، آراؤہ الاعتقادیۃ، وموقفہ من عقیدۃ السلف‘‘ میں عقیدے کے موضوع پر نواب صاحب کی کتابوں کی تعداد چھیالیس (۴۶) لکھی ہے۔ ان میں اردو تالیفات کی تعداد دس (۱۰) ہے، جیسا کہ نواب صاحب نے زیر نظر کتاب میں اس کا ذکر کیا ہے۔ ان میں سے عقیدے کے موضوع پر ایک کتاب ’’دعایۃ الإیمان إلی توحید الرحمٰن‘‘ استادِ محترم مولانا محمد اعظمی کی تسہیل وتخریج کے ساتھ جامعہ سلفیہ بنارس انڈیا سے جمعیۃ احیاء التراث الاسلامی کویت کے تعاون سے شائع ہو چکی ہے۔ موضوع کتاب: زیرِ نظر کتاب ’’إخلاد الفؤاد إلی توحید رب العباد‘‘ ایک مختصر مگر اپنے موضوع پر عمدہ کتاب ہے۔ اس کتاب میں نواب والا جاہ نے مرصع ومسجع عبارات کے ساتھ تجدیدی تحریک سے قبل بلاد عربی: نجد، بلدہ درعیہ وجبلیہ، شعیب غبیرا، ریاض، حرم شریف مکہ، طائف، قبا، جدہ، مزدلفہ، عرفات، موضع سرف، معلی، جنت البقیع، روضۂ اطہر، عدنان، حدیدہ، قطیف وبحرین، مسقط، بلادِ مصر وصعید وقاہرہ، ملک یمن، حضر موت، حلب، دمشق، شام، موصل، مشہد وبغداد، بصرہ، عراقِ عجم وغیرہ میں ہونے والے غیر شرعی امور، منکرات وبدعات اور شرکیہ اعمال کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اس کے بعد اقلیمِ ہند میں بہرائچ، مکن پور، اجمیر، دہلی وغیرہ میں ہونے والے قبروں پر میلوں اور عرسوں کا ذکر کیا اور فرمایا کہ وہاں پر جہاں بھر کے منکرات، اجتماعاتِ مرد وزن، سماعات وزیارات شرکیہ وبدعیہ عمل میں آتی ہیں ۔ بڑے بڑے قبے اور مشاہد بنے ہوئے ہیں ۔ ان مواضع میں استغاثہ اور استعانت بغیر اللہ؛ سب کچھ عوام وخواص بجا لاتے ہیں ۔ ۱۳۰۰ھ میں بعض علماے دین کی کوشش سے شرک وبت پرستی اور پیر پرستی کا کارخانہ قدرے سرد پڑ گیا تھا۔ مدتِ تجدید کے دراز ہونے پر دوبارہ ان بدعات وشرکیہ اعمال نے قدم جمانا شروع کر دیا۔ اس کتاب میں عقیدہ توحید سے انحراف کے نتیجے میں ہونے والے ان غیر شرعی امور کا تذکرہ آپ نے بڑی دل سوزی کے ساتھ کیا ہے، جو اولیا اور صالحین کی قبور اور مزارات پر انجام دیے جاتے ہیں ۔