کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد1) - صفحہ 216
غنیمت کبریٰ سمجھ کر اس کی حفاظت کرے اور کسی مولوی، درویش، استاد اور پیر کے بہکانے سے کوئی لغزش نہ کرے، بلکہ جو کوئی اسے ایسی بات بتائے جو توحید و اخلاص کے خلاف ہو تو اسے پیر نہ سمجھے، بلکہ شیطان کا وکیل سمجھے اور اس سے بے زار ہو کر اس کی حجت کو ترک کر دے۔ قرآن مجید کے الفاط و معانی کے فہم اور غور و خوض کے ساتھ اس کی تلاوت کرنے سے توحید کو تقویت ملتی ہے اور سنتِ مطہرہ کی کتب کا مطالعہ کرنے سے ان کے صحیح معانی دریافت کرنے کے ساتھ توحید کی حلاوت و طلاوت حاصل ہوتی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے تو انسان انہی دو چیزوں پر اکتفا کرے اور دیگر تمام علوم و فنون کو بے گانہ سمجھ کر طاقِ نسیان پر رکھ دے۔ مصلحت دید من آنست کہ یاران ہمہ کار بگزارند وسر طرۂ یاری گیرند [میں تو اسی میں مصلحت دیکھتا ہوں کہ وہ تمام ہر جائی دوستوں کو چھوڑ دیں اور حقیقی دوست کے طرہ کا کنارہ تھام لیں ] اللّٰهم أرنا الحق حقا، وارزقنا اتباعہ، وأرنا الباطل باطلا، و ارزقنا اجتنابہ۔ خاتمہ تالیف: آج بروز ہفتہ شعبان کی آخری تاریخ ۱۳۰۵ھ کو یہ رسالہ دو روز میں ختم ہوا۔ ختم اللّٰه لنا بالحسنیٰ و زیادۃ، و جعلنا من أہل السیادۃ و السعادۃ، إنہ علی ما یشاء قدیر، و بالإجابۃ جدیر، و آخر دعوانا أن الحمد للّٰه رب العالمین، و صلی اللّٰه تعالیٰ علی خیر خلقہ محمد وآلہ و صحبہ أجمعین۔ ٭٭٭