کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد1) - صفحہ 212
وہ تین امور ہیں : شہادتین، اقامتِ نماز اور اداے زکات۔ کیونکہ قول بغیر عمل کے نفع بخش نہیں ہوتا ہے، ورنہ تو یہود بھی اس کے قائل ہیں ۔ رہی اشکال میں پیش گئی حدیث تو اس سے مراد کلمے کے معانی ہیں نہ کہ صرف کلمے کا تلفظ اور اسے زبان سے ادا کرنا۔ پھر اس کلمے کو اسی طرح پڑھنا مراد ہے جس طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پڑھا تھا کہ وہ اس کلمے کے معنی اثبات و نفی پر یقین رکھتے تھے اور اس کے مقتضا پر عامل تھے، نیز جو بات اس کلمے کے منافی تھی اس کے تارک تھے، جیسے شرک ہے۔ ارکانِ اسلام کی بجا آوری کے ساتھ ساتھ شرک کرنے والا بھی واجب القتل ہے: پھر اگر کوئی شخص مذکورہ تینوں ارکانِ اسلام بجا لائے، لیکن بعض عبادات غیر اللہ کے لیے بھی کرے، جیسے قبروں والوں کے حق میں اعتقاد رکھنا، تو اس کا جواب یہ ہے کہ ابھی جو قصے بیان ہوئے ہیں جن کے حق میں خلفا کے دور میں قتل کا حکم جاری ہوا تھا، وہ لوگ ان تینوں ارکانِ اسلام پر عامل تھے، مگر اس کے ساتھ ساتھ کچھ ایسے اعمال بھی بجا لاتے تھے جو اس کلمے کے منافی تھے، جس سے ان کا قتل واجب ہو جاتا تھا۔ شرک سے ناواقفیت کا عذر مقبول نہیں : رہی یہ بات کہ لوگ اس بات سے ناواقف ہیں کہ یہ کام احسن مسالک کے منافی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اس شخص کا کفر ثابت شدہ ہے جس کو دعوت پہنچ چکی ہے اور اس پر حجت قائم ہو چکی ہے اور وہ شخص علم ہونے کے بعد سرکشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شرک پر جما ہوا ہے۔ جب سے توحیدِ الوہیت کے متعلق دعوت محمدیہ ظاہر ہوئی ہے اور اس پر تلواریں بے نیام ہوئی ہیں ، تب سے جس کسی نے اس کو رد کیا اور اس کا منکر ہوا، ہماری یہ گفتگو اسی شخص کے حق میں ہے اور اس ملامت کا رخ اسی کی طرف ہے۔ دعوتِ توحید ہر جگہ پہنچ گئی اور ہر خاص وعام پر قرآن مجید ایک بہت بڑی حجت و دلیل ہے کہ عبادت صرف اللہ کے لیے خاص ہے اور اس استحقاق میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے۔ قرآن مجید کی صریح دلالت اس کی تلاوت کرنے والے اور اسے سننے والے پر ثابت ہے۔ عقل اس کی طرف راہ یاب ہوتی ہے اور اس پر حجت کا قیام ہوتا ہے۔ جہاں تک دلیل و حجت کے فہم