کتاب: مجموعہ رسائل عقیدہ(جلد1) - صفحہ 199
دکھائے گا اور وہ کسی صورت آگ سے نکلنے والے نہیں ] مزید فرمایا: ﴿ مَنْ یُّشْرِکْ بِاللّٰہِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ وَ مَاْوٰہُ النَّارُ﴾ [المائدۃ: ۷۲] [جو اللہ کے ساتھ شریک بنائے سو یقینا اس پر اللہ نے جنت حرام کر دی اور اس کا ٹھکانا آگ ہے] رہی ان کے ساتھ قتال کرنے کی دلیل تو وہ یہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْھُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَ جَدْتُّمُوْھُمْ وَخُذُوْھُمْ وَ احْصُرُوْھُمْ وَ اقْعُدُوْا لَھُمْ کُلَّ مَرْصَدٍ فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَوُا الزَّکٰوۃَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَھُمْ اِِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْم﴾ [التوبۃ: ۵] [پس جب حرمت والے مہینے نکل جائیں تو ان مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کرو اور انھیں پکڑو اور انھیں گھیرو اور ان کے لیے ہر گھات کی جگہ بیٹھو، پھر اگر وہ توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکات ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو۔ بے شک اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے] حسین بن فضل رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ اس آیت نے ہر اس آیت کو منسوخ کر دیا ہے جس میں دشمنوں سے اعراض کرنے اور ان کی ایذا رسانیوں پر صبر کرنے کا ذکر ہے۔ آیت میں مذکورہ الفاظ: ﴿فَاِنْ تَابُوْا﴾ کے معنی یہ ہیں کہ اگر وہ کفر و شرک سے توبہ کر کے پکے مسلمان بن جائیں تو پھر ان کو نہ چھیڑو، بلکہ انھیں چھوڑ دو۔ نیز ان سے قتال کرنے سے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشادِ گرامی ہے: ﴿ وَ قَاتِلُوْھُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّ یَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ﴾ [الأنفال: ۳۹] [اور ان سے لڑو یہاں تک کہ کوئی فتنہ نہ رہے اور دین سب کا سب اللہ کے لیے ہو جائے] اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ان مشرکین سے تب تک قتال کرو جب تک اللہ کے سوا کسی دوسرے کی پوجا پرستش نہ ہو یا جب تک بلا شرکتِ غیر خالص اللہ کی عبادت نہ کی جائے۔ ’’تفسیر جلالین‘‘ میں ہے کہ اس آیت میں فتنے سے مراد شرک ہے۔[1] [1] تفسیر الجلالین (ص: ۳۵۷)